ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 77
77 اس قدر پیار کا رشتہ تھا کہ جب حضور یہ قصیدہ لکھ چکے تو آپ کا روئے مبارک فرط مسرت سے چمک اٹھا اور آپ نے فرمایا یہ قصیدہ جناب الہی میں قبول ہو گیا اور خدا تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا کہ جو شخص یہ قصیدہ حفظ کرلے گا اور ہمیشہ پڑھے گا میں اس کے دل میں اپنی اور اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دوں گا اور اپنا قرب عطا کروں گا۔( در یشین عربی مترجم صفحه 1) مرزا صاحب کا یہ مشہور قصیدہ 69 اشعار پر مشتمل ہے اپنے تمام لسانی محاسن اور فنی خصوصیات کے لحاظ سے ایسی عجیب و غریب چیز ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا۔ایک ایسا شخص جس نے کسی مدرسہ میں زانوئے ادب تہ نہ کیا تھا کیونکر ایسا فصیح و بلیغ قصیدہ لکھنے پر قادر ہو گیا۔یہ قصیدہ اس والہانہ محبت کے لحاظ سے جو مرزا صاحب کو رسول اللہ سے تھی بڑی پُر اثر چیز ہے۔یہ قصیدہ اس شعر سے شروع ہوتا ہے۔يَا عَيْنَ فَيُضِ اللَّهِ وَالْعِرْفَـانِ يَسْعَى إِلَيْكَ الْخَلْقُ كَالظَّمُان اور اختتام اس شعر پر ہوتا ہے۔جِسْمِي يَطِيرُ إِلَيْكَ مِنْ شَوْق عَلَا يَا لَيْتَ كَانَتْ قَوَّةُ الطَّيَرَانِ آئینہ کمالات اسلام از روحانی خزائن جلد 5 صفحه 590) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت مسیح موعود کی یہ والہانہ محبت محض کاغذی یا نمائشی محبت نہیں تھی بلکہ آپ کے ہر قول وفعل اور ہر حرکت وسکون میں اس کی ایک زندہ اور زبردست جھلک نظر آتی تھی۔ایک دفعہ آپ علیحدگی میں ٹہلتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درباری شاعر حضرت حسان بن ثابت کا یہ شعر تلاوت فرمارہے تھے اور ساتھ ساتھ آپ کی آنکھوں سے آنسو ٹپکتے جارہے تھے۔۔كُـنـتَ السَّوَادَ لِـنَاظِرِى فَـعَـمِـيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنتَ أَحَاذِرُ یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو میری آنکھ کی پتلی تھا پس تیری وفات سے میری آنکھ اندھی ہوگئی ہے سواب تیرے بعد جس شخص پر چاہے موت آجاوے مجھے اس کی پروا نہیں کیونکہ مجھے تو صرف تیری موت کا ڈر تھا جو واقع ہوگئی۔" آپ اپنے ایک اور قربی قصیدہ میں اپنے محبوب رسول گولیوں خراج عقد بیت ادا کرتے ہیں۔يَا قَلْبِيَ اذْكُرُ أَحْمَدَا بدرٌ مُنِيرَ زَاهِدٌ نُوْرٌ مِنَ اللَّهِ الَّذِي بَرًا كَرِيمًا مُحْسِنًا عَيْنُ الْهُدَى مُفْنِي الْعَدَى فِي كُلِّ وَصُفٍ حُمّدًا أَحْيَ الْعُلُوْمَ تَجَدَّدَا بَحْرَ الْعَطَايَا وَالْجُدَا