ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 78 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 78

78 فارسی نعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے "آئینہ کمالات اسلام " میں ایک بلند پایہ مدحیہ فارسی نعت بھی رقم فرمائی اس نعت کا مطلع یہ۔یہ ہے۔عجب نوریست در جان محمد عجب لعلیست در کان محمد یہی وہ نعت ہے جس کے ایک شعر سے متعلق جماعت احمدیہ کا ایک شدید مخالف اخبار " آزا د لا ہور 29 دسمبر 1950ء کے شمارہ میں یہ رائے قائم کرنے پر مجبور ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف میں گزشتہ انبیاء و مرسلین سے لے کر صلحائے امت تک نے بہت کچھ کہا ہے مگر حقیقی تعریف اسی شعر میں بیان کی گئی ہے کہ۔اگر خواهی دلیلے عاشقش باش برہان محمد آئینہ کمالات اسلام از روحانی خزائن جلد 5 صفحه 649) آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی محبت و عشق کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم نثار کوچه آل محمد است دیدم بعین قلب شنیدم بگوش ہوش در هر مکان ندائے جمال محمد است یعنی میرے جان و دل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن خدا داد پر قربان ہیں اور میں آپ کے آل وعیال کے کوچہ کی خاک پر شار ہوں۔میں نے اپنے دل کی آنکھ سے دیکھا اور ہوش کے کانوں سے سنا ہے کہ ہر کون ومکاں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جمال کی ندا آ رہی ہے۔پھر فرماتے ہیں۔بعد از خدا بعشق محمد مخمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم جانم فدا شود بره دین مصطفیٰ اینست کام دل اگر آید میسرم یعنی خدا سے اتر کر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی شراب سے متوالا رہا ہوں اور اگر یہ بات کفر میں داخل ہے تو خدا کی قسم میں سخت کافر ہوں۔میرے دل کا واحد مقصد یہ ہے کہ میری جان محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے