ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 76
76 اس تو ہین سے جو ہمارے رسول کریم کی گئی دُکھا۔" آئینہ کمالات اسلام از روحانی خزائن جلد 5 صفحه 50-51) میرے دل کو کسی چیز نے اتنی تکلیف نہیں دی جتنی ان دشمنوں کے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے استہزاء کرنے نے دی ہے۔خدا کی قسم ! اگر میرے سارے لڑکے اور اولاد اور پوتے میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دیئے جائیں اور میرے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور میری آنکھیں نکال دی جائیں اور مجھے میری تمام مرادوں اور معین و مددگاروں سے محروم کر دیا جائے تو تب بھی یہ تمام امور مجھ پر ، اُن کے آپ سے استہزاء سے زیادہ ( ترجمه عربی عبارت آئینہ کمالات اسلام از روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 15) گراں نہیں۔" میں بڑے یقین اور دعوئی سے کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کمالات نبوت ختم ہو گئے۔وہ شخص جھوٹا اور مفتری ہے جو آپ کے خلاف کسی سلسلہ کو قائم کرتا ہے اور آپ کی نبوت سے الگ ہو کر کوئی صداقت پیش کرتا ہے اور چشمہ نبوت کو چھوڑتا ہے۔میں کھول کر کہتا ہوں کہ وہ شخص لعنتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا آپ کے بعد کسی اور کو نبی یقین کرتا ہے اور آپ کی ختم نبوت کو توڑتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کوئی ایسا نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا جس کے پاس وہی مہر نبوت محمدی نہ ہو۔ہمارے مخالف الرائے مسلمانوں نے یہی غلطی کھائی ہے کہ وہ ختم نبوت کی مہر کو توڑ کر اسرائیلی نبی کو آسمان سے اُتارتے ہیں اور میں یہ کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور آپ کی ابدی نبوت کا یہ ادنی کرشمہ ہے کہ تیرہ سو سال کے بعد بھی آپ ہی کی تربیت اور تعلیم سے مسیح موعود آپ کی امت میں وہی مہر نبوت لے کر آیا ہے۔اگر یہ عقیدہ کفر ہے تو پھر میں اس کفر کو عزیز تر رکھتا ہوں لیکن یہ لوگ جن کی عقلیں تاریک ہوگئی ہیں، جن کو نور نبوت سے حصہ نہیں دیا گیا اس کو سمجھ نہیں سکتے اور اس کو کفر قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ وہ بات ہے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال اور آپ کی زندگی کا ثبوت ہوتا ہے۔" ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 468 تا 469) مجھے اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ میں کا فرنہیں۔لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ میرا عقیدہ ہے۔اور لكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت میرا ایمان ہے۔میں اپنے اس بیان کی صحت پر اس قدر قسمیں کھاتا ہوں جس قد ر خدا تعالیٰ کے پاک نام ہیں اور جس قدر قرآن کریم کے حرف ہیں اور جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا تعالیٰ کے نزدیک کمالات ہیں۔میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا خدا اور رسول پر وہ یقین ہے کہ اگر اس زمانہ کے تمام ایمانوں کو ترازو کے ایک پلہ میں رکھا جائے اور میرا ایمان دوسرے پلہ میں تو بفضلہ تعالیٰ یہی پلہ بھاری ہوگا۔" کرامات الصادقین از روحانی خزائن جلد 7 صفحه 67) سرور کونین کی شان اقدس میں پُر کیف مدحیہ قصیدہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں ایک معجز نما عربی قصیدہ رقم فرمایا جو چودہ سوسال کے اسلامی لٹریچر میں اپنی نظیر آپ ہے۔آپ کو اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے