ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 75
75 کیا ہی خوش نصیب وہ آدمی ہے جس نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشوائی کے لئے قبول کیا اور قرآن شریف کو رہنمائی کے لئے اختیار کیا۔تا بر دلم نظر شد از مهر ماه مارا کر دست سیم خالص قلب سیاه مارا " سرمه چشمه آرید از روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 299-300) میرا ذاتی تجربہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بچے دل سے پیروی کرنا اور آپ سے محبت رکھنا انجام کارانسان کو خدا کا پیارا بنادیتا ہے۔اس طرح پر کہ خود اس کے دل میں محبت الہی کی ایک سوزش پیدا کر دیتا ہے۔تب ایسا شخص ہر ایک چیز سے دل برداشتہ ہو کر خدا کی طرف جھک جاتا ہے اور اس کا انس وشوق صرف خدا تعالیٰ سے باقی رہ جاتا ہے۔تب محبت الہی کی ایک خاص تجلی اس پر پڑتی ہے اور اس کو ایک پورا رنگ عشق اور محبت کا دے کر قوی جذبہ کے ساتھ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔تب جذبات نفسانیہ پر وہ غالب آ جاتا ہے اور اس کی تائید اور نصرت میں ہر ایک پہلو سے خدا تعالیٰ کے خارق عادت افعال نشانوں کے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں۔" (حقیقۃ الوحی از روحانی خزائن جلد 22 صفحه 67-68) "خدا کے رسول کو ماننا تو حید کے ماننے کے لئے علت موجبہ کی طرح ہے اور ان کے باہمی ایسے تعلقات ہیں کہ ایک دوسرے سے جدا ہوہی نہیں سکتے اور جو شخص بغیر پیروی رسول کے توحید کا دعویٰ کرتا ہے اس کے پاس صرف ایک خشک ہڈی ہے جس میں مغز نہیں اور اس کے ہاتھ میں محض ایک مُردہ چراغ ہے جس میں روشنی نہیں ہے اور ایسا شخص کہ جو یہ خیال کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص خدا کو واحد لاشریک جانتا ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانتا ہو وہ نجات پائے گا یقینا سمجھو کہ اس کا دل مجزوم ہے اور وہ اندھا ہے اور اس کو تو حید کی کچھ بھی خبر نہیں کہ کیا چیز ہے اور ایسی توحید کے اقرار میں شیطان اس سے بہتر ہے۔کیونکہ اگر چہ شیطان عاصی اور نا فرمان ہے لیکن وہ اس بات پر تو یقین رکھتا ہے کہ خدا موجود ہے۔مگر اس شخص کو تو خدا پر یقین بھی نہیں۔" (حقیقة الوحی از روحانی خزائن جلد 22 صفحه 12) اس زمانہ میں جو کچھ دین اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین کی گئی اور جس قدر شریعت ربانی پر حملے ہوئے اور جس طور سے ارتداد اور الحاد کا دروازہ کھلا۔کیا اس کی نظیر کسی دوسرے زمانہ میں بھی مل سکتی ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ تھوڑے ہی عرصہ میں اس ملک ہند میں ایک لاکھ کے قریب لوگوں نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا اور چھ کروڑ اور کسی قدر زیادہ اسلام کے مخالف کتابیں تالیف ہوئیں اور بڑے بڑے شریف خاندان کے لوگ اپنے پاک مذہب کو کھو بیٹھے یہاں تک کہ وہ جو آل رسول کہلاتے تھے وہ عیسائیت کا جامہ پہن کر دشمن رسول بن گئے اور اس قدر بد گوئی اور اہانت اور دشنام دہی کی کتابیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں چھاپی گئیں اور شائع کی گئیں کہ جن کے سننے سے بدن پر لرزہ پڑتا اور دل رو رو کر یہ گواہی دیتا ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے بچوں کو ہماری آنکھوں کے سامنے قتل کرتے اور ہمارے جانی اور دلی عزیزوں کو جو دنیا کے عزیز ہیں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے اور ہمیں بڑی ذلت سے جان سے مارتے اور ہمارے تمام اموال پر قبضہ کر لیتے تو اللہ ثم واللہ میں رنج نہ ہوتا اور اس قدر کبھی دل نہ دکھتا جوان گالیوں اور