ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 74 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 74

بارے میں جذبات کا ذکر ہے۔آپ فرماتے ہیں۔74 " ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلی درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی تصرف ایک مرد کو جانتے ہیں یعنی وہی نبیوں کا سردار اور رسولوں کا فخر ، تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفی واحمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزار برس تک نہیں مل سکتی تھی۔ہر ایک روشنی ہم نے رسول نبی امی کی پیروی سے پائی ہے اور جو شخص پیروی کرے گا وہ بھی پائے گا اور ایسی قبولیت اس کو ملے گی کہ کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں رہے گی۔زندہ خدا جولوگوں سے پوشیدہ ہے اس کا خدا ہوگا۔" (سراج منیر، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 82-83) پھر آپ فرماتے ہیں۔" جولوگ ناحق خدا سے بے خوف ہو کر ہمارے بزرگ نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرے الفاظ سے یاد کرتے اور آنجناب پر نا پاک تہمتیں لگاتے اور بد زبانی سے باز نہیں آتے ہیں۔ان سے ہم کیونکر صلح کریں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کر سکتے ہیں۔لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کر سکتے۔جو ہمارے پیارے نبی پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے۔نا پاک حملے کرتے ہیں۔" پیغام صلح از روحانی خزائن جلد 23 صفحه 459) " بات یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کے نام اپنے اندر جمع رکھتے ہیں کیونکہ وہ وجود پاک جامع کمالات متفرقہ ہے۔پس وہ موسیٰ بھی ہے اور عیسی بھی اور آدم بھی اور ابراہیم بھی اور یوسف بھی اور یعقوب بھی۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے۔فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِه یعنی اے رسول اللہ تو ان تمام ہدایات متفرقہ کو اپنے وجود میں جمع کر لے جو ہر ایک نبی خاص طور پر ساتھ رکھتا تھا۔پس اس سے ثابت ہے کہ تمام انبیاء کی شانیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں شامل تھیں اور در حقیقت محمد کا نام صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ محمد کے یہ معنے ہیں کہ بغایت تعریف کیا گیا اور غایت درجہ کی تعریف تبھی متصور ہو سکتی ہے کہ جب انبیاء کے تمام کمالات متفرقہ اور صفات خاصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع ہوں۔" ( آئینہ کمالات اسلام از روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 343) اس تمام تقریر کا مدعا وخلاصہ یہ ہے کہ عند العقل قرب الہی کے مراتب تین قسم پر منقسم ہیں اور تیسرا مرتبہ قرب کا جو مظہر اتم الوہیت اور آئینہ خدا نما ہے حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مسلم ہے جس کی شعاعیں ہزار ہا دلوں کو منور کر رہی ہیں اور بے شمار سینوں کو اندرونی ظلمتوں سے پاک کر کے نور قدیم تک پہنچا رہی ہیں۔وَلِلَّهِ دُرُ الْقَائِلِ محمد عربی بادشاہ ہر دوسرا کرے ہے روح قدس جس کے در کی دربانی اسے خدا تو نہیں کہہ سکوں پہ کہتا ہوں کہ اس کے مرتبہ دانی میں ہے خدادانی