ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 73 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 73

73 حضرت سید تاج حسین صاحب بخاری سیدانوالی ضلع سیالکوٹ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا:۔ہم اولا در سول کو اپنی عزیز متاع تصور کرتے ہیں اور ان کے لئے ہمارے دل میں بڑا احترام ہے۔" (رجسٹر روایات صحابہ نمبر 12 صفحہ 153) مذہبی بزرگوں کا احترام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے آپ کے دل میں دوسرے پاک نفس بزرگوں کی محبت کو بھی ایک خاص جلا دے دی تھی اور آپ کسی بزرگ کی ہتک گوارا نہیں کرتے تھے۔حضرت امام حسن وحسین رضی اللہ عنھما سے پیار کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔صحابہ کے پاک نفوس کے متعلق فرماتے ہیں۔إِنَّ الصَّحَابَةَ كُلُّهُمْ كَذُ كَـاءِ قَدْ نَوَّرُوا وَجْهَ الْوَرِى بِضِيَاءِ (سرالخلافہ از روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 397) یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ سورج کی طرح روشن تھے۔انہوں نے ساری دنیا کو اپنے نور سے روشن کر دیا۔ناموس رسالت، حضرت مرزا غلام احمد کی تحریرات کی روشنی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام چونکہ اسلام کے قلمی جہاد میں فتح نصیب جرنیل کی حیثیت سے دنیا میں آئے۔اس لئے قدرت نے ابتداء ہی سے آپ کو قلم کی لازوال قوتوں سے مسلح کر کے بھیجا تھا۔آپ نثر نگاری اور شاعری ہردو میدانوں کے شہسوار تھے۔آپ نے توحید کے قیام ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و فدائیت، اسلام کے دفاع اور قرآن کریم کی تعلیم کے فروغ کے لئے تاریخ ساز کام کئے۔آپ کی تحریروں کے الفاظ نے جہاں اسلام کی عظمت اور اس کے عروج کے لئے بڑا اہم کام کیا وہاں اس کے دفاع میں یہ تحریریں اندرون و بیرون میں کمال شہرت کی حامل ٹھہر ہیں۔اندرون جماعت ان تحریروں نے مسیحائی انفاس میں وہ روح پھونکی کہ جماعت کا ہر بطل جلیل ان تحریروں کو لے کر میدان میں اترا اور مخالفین و معاندین کے دانت کھٹے کرتا رہا اور اس نے حضور علیہ السلام کے تخیلات و تفکرات اور تصورات کے اس روحانی اسلحہ کو خوب استعمال کیا۔اور بیرون جماعت ان سحر انگیز تحریروں نے جادو کا سا اثر کیا کہ غیر بھی اس عاشق صادق کی اپنے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور غیرت کا اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکے۔جس کی ایک جھلک کتاب کے اگلے حصہ میں دکھلائی جارہی ہے۔یہاں ان تحریرات کے چند نمونے پیش کئے جا رہے ہیں جن میں ایک محبت کے اپنے محبوب کے