ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 72
72 یعنی میرے جان و دل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و جمال پر فدا ہیں اور میری خاک کو چہ آل محمد پر نثار !! اسی الفت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے حضور نے 18 اکتوبر 1905 ء کو" تبلیغ الحق" کے عنوان سے ایک مفصل اشتہار دیا۔فرمایا:۔" اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنی جماعت کو اطلاع دیتا ہوں کہ ہم اعتقادر کھتے ہیں کہ یزید ایک نا پاک طبع دنیا کا کیڑا اور ظالم تھا اور جن معنوں کی رو سے کسی کو مومن کہا جاتا ہے وہ معنی اس میں موجود نہ تھے۔۔۔بد نصیب یزید کو یہ باتیں کہاں حاصل تھیں ؟ دنیا کی محبت نے اس کو اندھا کر دیا تھا۔مگر حسین رضی اللہ عنہ طاہر مطہر تھا اور بلاشبہ ان برگزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلاشبہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ایمان ہے اور اس امام کی تقویٰ اور محبت الہی اور صبر اور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت کے اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی۔تباہ ہو گیا وہ دل جو اس کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے اور اس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبت الہی کے تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے جیسا کہ ایک صاف آئینہ ایک خوبصورت انسان کا نقش۔یہ لوگ دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں۔کون جانتا ہے ان کی قدر مگر وہی جو اُن میں سے ہیں۔دنیا کی آنکھ وہ شناخت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور ہیں۔یہی وجہ حسین کی شہادت کی تھی کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا۔دنیا نے کس پاک اور برگزیدہ سے اس کے زمانہ میں محبت کی تا حسین رضی اللہ عنہ سے بھی محبت کی جاتی۔غرض یہ امر نہایت درجہ شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کرہ حسین رضی اللہ عنہ کی تحقیر کی جائے اور جو شخص حسین یا کسی اور بزرگ کی جو آئمہ مطہرین میں سے ہے تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف ان کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے کیونکہ اللہ جل شانہ اس شخص کا دشمن ہو جاتا ہے جو اس کے برگزیدوں اور پیاروں کا دشمن ہے۔" ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه 653-654) پھر لکھا ہے کہ ایک دفعہ جب محرم کا مہینہ تھا اور حضرت مسیح موعود اپنے باغ میں ایک چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے۔آپ نے مبارکہ بیگم سلمہا اور مبارک احمد مرحوم کو جو سب بہن بھائیوں میں چھوٹے تھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا "آؤ میں تمہیں محرم کی کہانی سناؤں" پھر آپ نے بڑے درد انگیز انداز میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعات سنائے۔آپ یہ واقعات سناتے جاتے تھے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور آپ اپنی انگلیوں کے پوروں سے اپنے آنسو پونچھتے جاتے تھے۔اس دردناک کہانی کو ختم کرنے کے بعد آپ نے بڑے کرب کے ساتھ فرمایا " یزید پلید نے یہ ظلم ہمارے نبی کریم کے نواسے پر کروایا مگر خدا نے بھی ان ظالموں کو بہت جلد اپنے عذاب میں پکڑ لیا۔اس وقت آپ پر عجیب کیفیت طاری تھی اور اپنے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے جگر گوشہ کی المناک شہادت کے تصور سے آپ کا دل بہت بے چین ہورہا تھا اور یہ سب کچھ رسول پاک کے عشق کی وجہ سے تھا۔" تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 579)