ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 71
71 مندرجہ بالا حوالہ جات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چند ایسی کتب کی نشان دہی کر کے اپنے پاک جذبات کا اظہار فرمایا جن کی اشاعت سے وہ ہتک رسول کے مرتکب ہوئے اور ان کے مطالعہ سے اسلام کے لئے درد دل رکھنے والے مسلمانوں کے دل دکھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان میں سے بعض کتب کے دفاع میں قلم اٹھایا اور اسلام کی تائید میں کئی ایک معرکہ آراء کتب و رسائل تصنیف فرمائے۔یہاں یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قلمی جہاد میں 83 سے زائد کتب جو تصنیف فرما ئیں وہ تمام کی تمام اسلام کے دفاع ، اس کی تائید میں تحریر فرمائیں۔چند ایک کا ذکر تو مشتے نمونہ از خروارے اوپر ہوا ہے، تاہم اگر دیگر کتب، رسائل اور آپ کی تقاریر کو دیکھا جائے تو ان میں اسلام کی خوبیاں اور اسلام کی حقانیت وصداقت بیان ہوئی ہے۔براہین احمدیہ، آئینہ کمالات اسلام، حقیقۃ الوحی، فتح اسلام، توضیح مرام ، ازاله اوہام، انوار الاسلام الحق مباحثہ لدھیانہ و دہلی، کے علاوہ تمام لیکچرز جیسے لیکچر لاہور، لیکچر سیالکوٹ لیکچرلدھیانہ اور بالخصوص وہ پبلک لیکچر جو آپ نے رؤسائے لاہور کو مخاطب ہو کر اس وقت دیا جب آپ اپنی وفات سے قبل لاہور میں مقیم تھے اور اَلرَّحِيلُ ثُمَّ الرَّحِیل کے الفاظ میں آپ کو اس دنیا سے کوچ کر جانے کے الہامات ہو چکے تھے۔17 مئی 1908 ء والے اس لیکچر میں اسلام کی تائید میں وہ دلائل بیان فرمائے کہ سامعین مبہوت ہو گئے۔اس موقعہ پر معزز سامعین کے لئے کھانے کا بھی انتظام تھا۔جب دو پہر کے کھانے کا وقت ہو گیا اور تقریر ابھی جاری تھی۔سامعین سے کہا گیا کہ اب کھانا کھا لیں۔تمام معزز سامعین نے بیک زبان ہوکر کہا " نہیں آپ تقریر جاری رکھیں وہ کھانا تو ہم روز کھاتے ہیں مگر یہ روحانی غذا پھر کہاں میسر آئے گی۔" تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 530) آنحضور کی اولاد سے محبت اور دینی غیرت ایک دفعہ کسی نے حضور سے پوچھا کہ کیوں نہ ہم آپ کو مدارج میں شیخین (حضرت ابو بکر اور حضرت عمر) سے افضل سمجھا کریں۔اس کے جواب میں حضور نے چھ گھنٹے تک ایک پر جلال تقریر فرمائی اور بتایا کہ "میرے لئے یہ کافی فخر ہے کہ میں ان لوگوں (صحابہ) کا مداح اور خاک پا ہوں جو جز کی فضیلت خدا تعالیٰ نے انہیں بخشی ہے وہ قیامت تک کوئی اور شخص پا نہیں سکتا۔کب دوبارہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں پیدا ہوں اور پھر کسی کو ایسی خدمت کا موقع ملے جو جناب شیخین علیہما السلام کو ملا۔" (الحکم 17 اگست 1899ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 443) اسی طرح پنج تن پاک کے متعلق تو آپ کا مشہور شعر ہے۔جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم ثار کوچه آل محمد است