ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 70 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 70

70 آجائے گا کیونکہ ان کتابوں میں علمی بیان کی نسبت سخت کلامی بہت ہے جس کی عام مسلمان برداشت نہیں کر سکتے۔چنانچہ ایک معزز پادری صاحب نے اپنے ایک پرچہ میں جولکھنو سے شائع ہوتا تھا لکھتے ہیں کہ اگر 1857 ء کا دوبارہ آنا ممکن ہے تو پادری عمادالدین کی کتابوں سے اس کی تحریک ہوگی۔اب سوچنے کے لائق ہے کہ پادری عمادالدین کا کیسا خطرناک کلام ہے جس پر ایک معزز مشنری صاحب یہ رائے ظاہر کرتے ہیں اور گزشتہ دنوں میں میں نے بھی مسلمانوں میں ایسی تحریروں سے ایک جوش دیکھ کر چند دفعہ اس تحریریں شائع کی تھیں جن میں ان سخت کتابوں کا جواب کسی قدر سخت تھا۔ان تحریروں سے میرا مدعا یہ تھا کہ عوض معاوضہ کی صورت دیکھ کر مسلمانوں کا جوش رُک جائے۔سواگر چہ ان حکمت عملی کی تحریروں سے مسلمانوں کو فائدہ تو ہوا اور وہ ایسے رنگ کا جواب پا کر ٹھنڈے ہو گئے لیکن مشکل یہ ہے کہ اب بھی آئے دن پادری صاحبوں کی طرف سے ایسی تحریریں نکلتی رہتی ہیں کہ جو و درنج اور تیز بطبع مسلمان ان کی برداشت نہیں (ضمیمہ رسالہ جہاد از روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 30-31) اس شب و شتم ، بے جا بہتان اور گندی گالیوں کے روک تھام کے لئے آخر میں ایک ایسا حوالہ پیش کیا جاتا کر سکتے۔" ہے جس میں آپ نے دردمندانہ دل رکھتے ہوئے ایک تجویز یوں پیش کی:۔یورپ کے ملاؤں پر بھی جو پادری ہیں ہمیں افسوس ہے کہ انہوں نے ناحق تیز اور خلاف واقعہ تحریروں سے نادانوں کو جوش دلائے۔ہزاروں دفعہ جہاد کا اعتراض پیش کر کے وحشی مسلمانوں کے دلوں میں یہ جما دیا کہ اُن کے مذہب میں جہاد ایک ایسا طریق ہے جس سے جلد بہشت مل جاتا ہے۔اگر ان پادری صاحبوں کے دلوں میں کوئی بد نیتی نہیں تھی تو چاہئے تھا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت یوشع کے جہادوں کا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاد سے مقابلہ کر کے اندر ہی اندر سمجھ جاتے اور چُپ رہتے۔اگر ہم فرض کر لیں کہ اس فتنہ عوام کے جوش دلانے کے بڑے محرک، اسلامی مولوی ہیں تا ہم ہمارا انصاف ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اقرار کریں کہ کسی قدر اس فتنہ انگیزی میں پادریوں کی وہ تحریر میں بھی حصہ دار ہیں جن سے آئے دن مسلمان شاکی نظر آتے ہیں۔افسوس کہ بعض جاہل ایک حرکت کر کے الگ ہو جاتے ہیں اور گورنمنٹ انگلشیہ کو مشکلات پیش آتی ہیں۔ان مشکلات کے رفع کرنے کے لئے میرے نزدیک احسن تجویز وہی ہے جو حال میں رومی گورنمنٹ نے اختیار کی ہے اور وہ یہ کہ امتحانا چند سال کے لئے ہر ایک فرقہ کو قطعا روک دیا جائے کہ وہ اپنی تحریروں میں اور نیز زبانی تقریروں میں ہرگز ہرگز کسی دوسرے مذہب کا صراحتا یا اشارۃ ذکر نہ کرے ہاں اختیار ہے کہ جس قدر چاہے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کرے۔اس صورت میں نئے نئے کینوں کی تخم ریزی موقوف ہو جائے گی اور پرانے قصے بھول جائیں گے اور لوگ باہمی محبت اور مصالحت کی طرف رجوع کریں گے اور جب سرحد کے وحشی لوگ دیکھیں گے کہ قوموں میں اس قدر با ہم انس اور محبت پیدا ہو گیا ہے تو آخر وہ بھی متاثر ہوکر عیسائیوں کی ایسی ہی ہمدردی کریں گے جیسا کہ ایک مسلمان اپنے بھائی کی کرتا ہے۔" گورنمنٹ انگریزی اور جہاد از روحانی خزائن جلد 17 صفحه 22