ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 69 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 69

69 ( ملفوظات جلد اول صفحہ 141 تا 143) اسلام جو ایک زندہ مذہب ہے، جوحی و قیوم خدا کی طرف سے ہے۔اس کے خلاف سر توڑ کوشش کر کے اس کو بھی مُردہ ملت بنانا چاہتے ہیں۔چنانچہ میں نے ان کے اعتراضوں کو ایک وقت شمار کیا تھا۔ان کی تعداد تین ہزار تک پہنچ چکی ہے اور اب تو اس میں اور بھی اضافہ ہوا ہوگا۔" اسلام کی تکذیب اور رد میں اس تیرھویں صدی میں میں کروڑ کے قریب کتاب اور رسالے تالیف ہو چکے ہیں اور ہر ایک گھر میں نصرانیت داخل ہو گئی ہے۔تو کیا اس سو سال کے حملہ کے بعد خدا کے ایک حملہ کا وقت اب تک نہیں آیا اور اگر آگیا تو اب تم آپ ہی بتلاؤ کہ صلیب پر فتح پانے کے لئے یا حسب اصطلاح قدیم ، صلیب کی کسر کے لئے اس صدی پر مجدد آتا اس کا نام کیا چاہئیے تھا؟ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کاسر الصلیب کا کیا نام رکھا ہے؟ کیا کا سر الصلیب کا نام مسیح موعود اور عیسی بن مریم نہیں ہے؟ پھر کیوں کر ممکن تھا کہ اس صدی کے سر پر بجر مسیح موعود کے کوئی (تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 266-267) اور مجدد آ سکتا۔" پھر جب پادری فنڈل صاحب نے 1849ء میں کتاب میزان الحق تالیف کر کے ہندوستان اور پنجاب اور سرحدی ملکوں میں شائع کی اور نہ فقط اسلام اور پیغمبر اسلام علیہ السلام کی نسبت تو ہین کے کلے استعمال کئے بلکہ لاکھوں انسانوں میں یہ شہرت دی کہ اسلام میں غیر مذہب کے لوگوں کو قتل کرنا صرف جائز ہی نہیں بلکہ بڑا ثواب ہے۔ان باتوں کو سُن کر سرحدی حیوانات جن کو اپنے دین کی کچھ بھی خبر نہیں جاگ اُٹھے اور یقین کر بیٹھے کہ در حقیقت ہمارے مذہب میں غیر مذہب کے لوگوں کو قتل کرنا بڑے ثواب کی بات ہے۔میں نے غور کر کے سوچا ہے کہ اکثر سرحدی وارداتیں اور پُر جوش عداوت جو سرحدی لوگوں میں پیدا ہوئی اس کا سبب پادری صاحبوں کی وہ کتابیں ہیں جن میں وہ تیز زبانی اور بار بار جہاد کا ذکر لوگوں کو سُنانے میں حد سے زیادہ گزر گئے ، یہاں تک کہ آخر میزان الحق کی عام شہرت اور اس کے زہریلے اثر کے بعد ہماری گورنمنٹ کو 1867ء میں ایکٹ نمبر 23-67 ء سرحدی اقوام کے غازیانہ خیالات کے روکنے کے لئے جاری کرنا پڑا۔یہ قانون سرحد کی چھ قوموں کے لئے شائع ہوا تھا اور بڑی امید تھی کہ اس سے وارداتیں رُک جائیں گی لیکن افسوس کہ بعد اس کے پادری عمادالدین امرتسری اور چند دوسرے بد زبان پادریوں کی تیز اور گندی تحریروں نے ملک کی اندرونی محبت اور مصالحت کو بڑا نقصان پہنچایا اور ایسا ہی اور پادری صاحبوں کی کتابوں نے جن کی تفصیل کی ضرورت نہیں دلوں میں عداوت کا تختم ہونے میں کمی نہیں کی۔غرض یہ لوگ گورنمنٹ عالیہ کی مصلحت کے سخت حارج ہوئے۔ہماری گورنمنٹ کی طرف سے یہ کارروائی نہایت قابل تحسین ہوئی کہ مسلمانوں کو ایسی کتابوں کے جواب لکھنے سے منع نہیں کیا۔" گورنمنٹ انگریزی اور جہاد از روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 21) پادری عماد الدین کی کتابیں اور پادری ٹھا کر داس کی کتابیں اور صفدر علی کی کتابیں اور امہات المومنین اور پادری ریواڑی کا رسالہ جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نہایت درجہ کی تو ہین اور تکذیب سے پر ہیں۔یا ایسی کتابیں ہیں کہ جو شخص مسلمانوں میں سے ان کو پڑھے گا اگر اس کو صبر اور حلم سے اعلیٰ درجہ کا حصہ نہیں تو بے اختیار جوش میں