ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 68 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 68

68 اور اس کے رسول کی رضا کو مقدم کر لیا۔خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی ہو جانا ہی ایک فعل تھا جو سارا قرآن شریف ان کی تعریف سے بھرا ہوا ہے اور رضی اللہ عنہم کا تمغہ ان کو مل گیا۔پس جب تک تم اپنے اندر وہ امتیاز ، وہ جوش حمیت اسلام کے لئے محسوس نہ کرو۔ہرگز اپنے آپ کو کامل نہ سمجھو۔ہماری جماعت یادر کھے کہ ہم ہندوستان کو بلحاظ حکومت ہرگز ہرگز دار الحرب قرار نہیں دیتے بلکہ اس امن اور برکات کی وجہ سے جو اس حکومت میں ہم کو ملی ہیں اور اس آزادی سے جو اپنے مذہب کے ارکان کی بجا آوری اور اس کی اشاعت کے لئے گورنمنٹ نے ہم کو دے رکھی ہے۔ہمارا دل عطر کے شیشہ کی طرح وفا داری اور شکر گزاری کے جوش سے بھرا ہوا ہے لیکن پادریوں کی وجہ سے ہم اس کو دارالحرب قرار دیتے ہیں۔پادریوں نے چھ کروڑ کے قریب کتابیں اسلام کے خلاف شائع کی ہیں۔میرے نزدیک وہ لوگ مسلمان نہیں ہیں جو ان حملوں کو دیکھیں اور سنیں اور اپنے ہی ہم وغم میں مبتلا ر ہیں۔اس وقت جو کچھ کسی سے ممکن ہو، وہ اسلام کی تائید کے لئے کرے اور اس قلمی جنگ میں اپنی وفاداری دکھائے ، جبکہ خود عادل گورنمنٹ نے ہم کو منع نہیں کیا ہے کہ ہم اپنے مذہب کی تائید اور غیر قوموں کے اعتراضوں کی تردید میں کتابیں شائع کریں، بلکہ پریس، ڈاک خانے اور اشاعت کے دوسرے ذریعوں سے مدد دی ہے، تو ایسے وقت میں خاموش رہنا سخت گناہ ہے۔ہاں ضرورت ہے اس امر کی کہ جو بات پیش کی جاوے، وہ معقول ہو۔اس کی غرض دلآزاری نہ ہو۔جو اسلام کے لئے سینہ بریاں اور چشم گریاں نہیں رکھتا، وہ یا در کھے کہ خدا تعالیٰ ایسے انسان کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔اس کو سوچنا چاہیے کہ جس قدر خیالات اپنی کامیابی کے آتے ہیں اور جتنی تدابیر اپنی دنیوی اغراض کے لئے کرتا ہے، اسی سوزش اور جلن اور درد دل کے ساتھ کبھی یہ خیال بھی آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر حملے ہورہے ہیں۔میں ان کے دفاع کی بھی سعی کروں؟ اور اگر کچھ اور نہیں ہو سکتا تو کم از کم پر سوز دل کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور دعا کروں ؟ اگر اس قسم کی جلن اور درد دل میں ہوتو ممکن نہیں کہ سچی محبت کے آثار ظاہر نہ ہوں۔اگر ٹوٹی ہانڈی بھی خریدی جائے، تو اس پر بھی رنج ہوتا ہے۔یہاں تک کہ ایک سوئی کے گم ہو جانے پر بھی افسوس ہوتا ہے۔پھر یہ کیسا ایمان اور اسلام ہے کہ اس خوفناک زمانہ میں کہ اسلام پر حملوں کی بوچھاڑ ہورہی ہے۔امن اور آرام کے ساتھ خواب راحت میں سورہے ہیں۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہفتہ وار اور ماہواری اخباروں اور رسالوں کے علاوہ ہر روز وہ کس قدر دو ورقہ اشتہار اور چھوٹے چھوٹے رسالے تقسیم کرتے ہیں جن کی تعداد پچاس پچاس ہزار اور بعض وقت لاکھوں تک ہوتی ہے؟ اور کئی کئی مرتبہ ان کو شائع کرنے میں کروڑ ہاروپیہ پانی کی طرح بہا دیا جاتا ہے۔یہ خوب یا درکھو کہ پادریوں کے ذہن اور تصور میں ہندو کچھ چیز نہیں ہیں اور نہ دوسرے مذاہب وغیرہ کی ان کو چنداں پر واہ ہے۔چنانچہ کبھی نہیں سنا ہو گا کہ جس قدر کہتا ہیں اسلام کی تردید میں یہ لوگ شائع کرتے ہیں ،اس کے مقابلہ میں آدھی بھی ہندو مذہب کے خلاف لکھتے ہوں۔یہ لوگ دوسرے مذاہب سے چنداں غرض نہیں رکھتے اس لئے کہ ان میں بجائے خود کوئی حقانیت اور صداقت کی روح نہیں ہے۔وہ عیسویت کی طرح خود مُردہ مذاہب ہیں لیکن