ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 67
67 برابر کیا ان کا ہزارم حصہ بھی وہ فتنے قرآن اور حدیث کی رو سے ثابت نہیں ہوں گے۔پس وہ کون سا فساد کا زمانہ اور کس بڑے دجال کا وقت ہے جو اس زمانہ کے بعد آئے گا اور فتنہ اندازی کی رو سے اس سے بدتر ہوگا۔کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ ان فتنوں سے بڑھ کر قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں ایسے اور فتنوں کا پتہ ملتا ہے جن کا اب نام ونشان نہیں۔یقینا یا درکھو کہ اگر تم ان فتنوں کی نظیر تلاش کرنے کے لئے کوشش کرو یہاں تک کہ اس کوشش میں مر بھی جاؤ تب بھی قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے ہرگز ثابت نہیں ہوگا کہ کبھی کسی زمانہ میں ان موجودہ فتنوں سے بڑھ کر کوئی اور فتنے بھی آئینہ کمالات اسلام از روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 51-52) آنے والے ہیں۔" پھر آپ ایک موقع پر تقریر کرتے ہوئے پادریوں کی اسلام کے خلاف نا پاک کارروائیوں کی وجہ سے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔"ہمارے نزدیک ہندوستان دارالحرب ہے بلحاظ قلم کے۔پادری لوگوں نے اسلام کے خلاف ایک خطرناک جنگ شروع کی ہوئی ہے۔اس میدان جنگ میں وہ نیزہ ہائے قلم لے کر نکلے ہیں نہ سنان و تفنگ لے کر۔اس لئے اس میدان میں ہم کو جو ہتھیار لے کر نکلنا چاہیے۔وہ قلم اور صرف قلم ہے۔ہمارے نزدیک ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس جنگ میں شریک ہو جائے۔اللہ اور اس کے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ دل آزار حملے کیے جاتے ہیں کہ ہمارا تو جگر پھٹ جاتا اور دل کانپ اٹھتا ہے کیا امہات المومنین یا دربار مصطفائی کے اسرار جیسی گندی کتاب دیکھ کر ہم آرام کر سکتے ہیں جس کا نام ہی اس طرز پر رکھا ہے۔جیسے ناپاک ناولوں کے نام ہوتے ہیں۔تعجب کی بات ہے کہ دربار لندن کے اسرار جیسی کتابیں تو گورنمنٹ کے اپنے علم میں بھی اس قابل ہوں کہ ان کی اشاعت بند کی جائے ، مگر آٹھ کروڑ مسلمانوں کی دل آزاری کرنے والی کتاب کو نہ روکا جائے۔ہم خود گورنمنٹ سے اس قسم کی درخواست کرنا ہرگز ہرگز نہیں چاہتے بلکہ اس کو بہت ہی نامناسب خیال کرتے ہیں۔جیسا کہ ہم نے اپنے میموریل کے ذریعہ سے واضح کر دیا، لیکن یہ بات ہم نے محض اس بنا پر کہی ہے کہ بجائے خود گورنمنٹ کا اپنا فرض ہے کہ وہ ایسی تحریروں کا خیال رکھے۔بہر حال گورنمنٹ نے عام آزادی دے رکھی ہے کہ اگر عیسائی ایک کتاب اسلام پر اعتراض کرنے کی غرض سے لکھتے ہیں، تو مسلمانوں کو آزادی کے ساتھ اس کا جواب لکھنے اور عیسائی مذہب کی تردید میں کتابیں لکھنے کا اختیار ہے۔میں حلفاً کہتا ہوں کہ جب کبھی ایسی کتاب پر نظر پڑتی ہے تو دنیا اور مافیہا ایک مکھی کے برابر نظر نہیں آتی۔میں پوچھتا ہوں کہ جس کو وقت پر جوش نہیں آتا کیا وہ مسلمان ٹھہر سکتا ہے۔کسی کے باپ کو بُرا بھلا کہا جائے تو وہ مرنے مارنے کو تیار ہو جاتا ہے لیکن اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی جائیں ، تو ان کی رگ حمیت میں جنبش بھی نہ آوے اور پر واہ بھی نہ کریں۔یہ کیا ایمان ہے؟ پھر کس منہ سے مرکر خدا کے پاس جائیں گے۔اگر مسلمانوں کا نمونہ دیکھنا چا ہو، تو صحابہ کرام کی جماعت کو دیکھو۔جنہوں نے اپنے جان ومال کے کسی قسم کے نقصان کی پرواہ نہیں کی۔اللہ