ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 66
66 لگایا جائے تو ان کی بلندی ہزارفٹ سے کچھ کم نہ ہو۔اور ابھی تک بس کب ہے ہر ایک مہینہ میں ہزاروں رسالے اور کتابیں اور اخبار تو ہین اور سب و شتم سے بھرے ہوئے نکلتے ہیں۔پس ہمیں ان مولویوں کی حالت پر افسوس تو یہی ہے کہ ایسے مولوی جو کہتے ہیں کہ جو کچھ ہوتا ہے ہوتا رہے۔کچھ مضائقہ نہیں۔اگر ان کی ماں کو کوئی ایسی گالی دی جاتی جو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جاتی ہے۔یا اگر ان کے باپ پر وہ بہتان لگایا جا تا جوسید الرسل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر لگایا جاتا ہے تو کیا یہ ایسے ہی چپ بیٹھے رہتے۔ہر گز نہیں۔بلکہ فی الفور عدالت تک پہنچتے اور جہاں تک طاقت ہوتی کوشش کرتے کہ تا ایسا دشنام دہ اپنی سزا کو پہنچے۔مگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ان کے نزدیک کچھ چیز نہیں۔غضب کی بات ہے کہ مخالفین کی طرف سے تو چھ کروڑ کتاب اب تک اسلام کے رد اور توہین میں تالیف ہو چکیں اور سب وشتم کا کچھ انتہا نہ رہا۔اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ کچھ مضائقہ نہیں ہونے دو جو کچھ ہوتا ہے۔عنقریب ہے جو ان گالیوں سے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں مگر ان مولویوں کو کچھ پروا نہیں۔حیف ہے ایسے اسلام اور مسلمانی پر۔کہ کہتے ہیں کہ کچھ بھی حرج نہیں۔ہزار ہا آدمی ان جھوٹے بہتانوں کو سن کر مرتد ہو گئے مگر ان کے خیال میں ہنوز کسی احسن انتظام کی ضرورت نہیں۔یا الہی ! یہ لوگ کیوں اندھے ہو گئے۔مجھے کچھ سبب معلوم نہیں ہوتا کیوں بہرے ہو گئے۔مجھے کچھ بھی پتہ نہیں لگتا۔اے قادر خدا۔اے حامی دین مصطفی ! تو ان کے دلوں کے جذام کو دور کر۔ان کی آنکھوں کو بینائی بخش کہ تو جو چاہتا ہے کرتا ہے تیرے آگے کوئی بات ان ہونی نہیں ! ہم تیری رحمتوں پر بھروسہ رکھتے ہیں تو کریم اور قادر ہے۔" ( نور القرآن نمبر 2 از روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 397-400) " کیا یہ سچ نہیں کہ تھوڑے ہی عرصہ میں اس ملک ہند میں ایک لاکھ کے قریب لوگوں نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا اور چھ کروڑ اور کسی قدر زیادہ اسلام کے مخالف کتابیں تالیف ہوئیں اور بڑے بڑے شریف خاندانوں کے لوگ اپنے پاک مذہب کو کھو بیٹھے یہاں تک کہ وہ جو آل رسول کہلاتے تھے وہ عیسائیت کا جامہ پہن کر دشمن رسول بن گئے اور اس قدر بد گوئی اور اہانت اور دشنام دہی کی کتابیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں چھاپی گئیں اور شائع کی گئیں کہ جن کے سننے سے بدن پر لرزہ پڑتا اور دل رو رو کر یہ گواہی دیتا ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے بچوں کو ہمارے آنکھوں کے سامنے قتل کرتے اور ہمارے جانی اور دلی عزیزوں کو جو دنیا کے عزیز ہیں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے اور ہمیں بڑی ذلت سے جان سے مارتے اور ہمارے تمام اموال پر قبضہ کر لیتے تو والله ثم واللہ ہمیں رنج نہ ہوتا اور اس قدر کبھی دل نہ دکھتا جوان گالیوں اور اس تو ہین سے جو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کی گئی دکھا۔پس کیا ابھی اس آخری مصیبت کا وہ وقت نہیں آیا جو اسلام کے لئے دنیا کے آخری دنوں میں مقدر تھا۔کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی اور زمانہ بھی آنے والا ہے جو قرآن کریم اور حدیث کی رو سے ان موجودہ فتنوں سے کچھ زیادہ فتنے رکھتا ہوگا۔سو بھائیو! تم اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو اور خوب سوچ لو کہ وقت آگیا ہے اور اندرونی اور بیرونی فتنے انتہا کو پہنچ گئے۔اگر تم ان تمام فتنوں کو ایک پلہ میزان میں رکھو اور دوسرے پلہ کے لئے تمام حدیثوں اور سارے قرآن کریم میں تلاش کرو تو ان کے