ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 65 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 65

65 اندازہ ہو سکے کہ اس زمانہ کے مامور، محبت رسول ، عاشق محمد کے دل میں اپنے محبوب اپنے معشوق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی کس قدر محبت موجزن تھی۔خادم اپنے مخدوم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ادب واحترام کا کیسا جذ بہ رکھتا تھا۔افسوس صد افسوس کہ آج مسلمانوں کی طرف سے اس عاشق صادق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام پر گستاخی رسول، بنک رسول اور ناموس رسالت پر حملوں کا الزام لگایا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام دلوں کو چھلنی کر دینے والے حالات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔اس بات کو کون نہیں جانتا کہ ہندوستان اور پنجاب میں کم سے کم 45 برس سے یہ بے اعتدالیاں شروع ہیں۔ہمارے سید و مولیٰ حضرت خاتم الانبیاء سید المطهرين افضل الاولین والآخرین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر گالیاں دی گئی ہیں اور اس قدر قرآن کریم کو بیجا ٹھٹھے اور ہنسی کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ دنیا میں کسی ذلیل سے ذلیل انسان کے لئے بھی کسی شخص نے یہ لفظ استعمال نہیں کئے۔یہ کتا بیں کچھ ایک دو نہیں بلکہ ہزار ہا تک نوبت پہنچ گئی ہے اور جو شخص ان کتابوں کے مضمون پر علم رکھ کر اللہ جلشانہ اور اس کے رسول پاک کے لئے کچھ بھی غیرت نہیں رکھتا۔وہ ایک لعنتی آدمی ہے، نہ مولوی اور ایک پلید حیوان ہے نہ انسان۔اور یادر ہے کہ ان میں بہت سی ایسی کتابیں ہیں جو میرے بلوغ کے ایام سے بھی پہلے کی ہیں اور کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ ان کتابوں کی تالیف کا یہ موجب تھا کہ میں یا کسی اور مسلمان نے حضرت مسیح علیہ السلام کو گالیاں دی تھیں جس سے مشتعل ہو کر پادری فنڈل اور صفدر علی اور پادری ٹھا کر داس اور عمادالدین اور پادری ولیمس ریواری نے وہ کتابیں تالیف کیں کہ اگر ان کی گالیاں اور بے ادبیاں جمع کی جائیں تو اس سے سوجز کی کتاب بن سکتی ہے۔اور ایسا ہی کوئی اس بات کا ثبوت نہیں دے سکتا کہ جس قدر گالیاں اور بے ادبیاں پنڈت دیانند نے اپنی کتاب ستیارتھ پر کاش میں ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیں اور دین اسلام کی توہین کی۔یہ کسی ایسے اشتعال کی وجہ سے تھیں جو ہماری طرف سے ہوا تھا۔ایسا ہی آریوں میں سے لیکھرام وغیرہ جواب تک گندی کتابیں چھاپ رہے ہیں۔اصل موجب اس کا ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم نے وید کے رشیوں کو گالیاں دی تھیں بلکہ اگر ہم نے کچھ وید کی نسبت براہین میں لکھا تو نہایت تہذیب سے لکھا اور اس وقت لکھا گیا کہ جب دیا نند اپنے ستیارتھ پر کاش میں اور کنہی لعل الکھ دھاری لدھیانوی اپنی کتابوں میں اور اندر من مراد آبادی اپنی پلید تالیفوں میں ہزار ہا گالیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دے چکے تھے اور ان کی کتابیں شائع ہو چکی تھیں اور بعض بد بخت اور آنکھوں کے اندھے مسلمان آریہ بن چکے تھے اور اسلام سے نہایت درجہ ٹھٹھا کیا گیا تھا اور پھر بھی ہم نے براہین میں تہذیب کو ہاتھ سے نہ دیا۔گو ہمارا دل دکھایا گیا اور بہت ہی دکھایا گیا مگر ہم نے اپنی کتاب میں ہرگز ناراستی اور سختی کو اختیار نہ کیا اور جو واقعات دراصل صحیح اور محل پر چسپاں تھے وہی بیان کئے۔ہم بمقابل آریوں کی گالیوں کے ویدوں کے رشیوں کو کیونکر گالیاں دیتے۔۔۔اسلام کا طریق گالی دینا نہیں ہے مگر ہمارے مخالفوں نے ناحق بے وجہ اس قدر گالیوں سے بھری ہوئی کتابیں لکھی ہیں کہ اگر ان کا ایک جگہ ڈھیر