ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 64 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 64

64 مسلمان وفادار گورنمنٹ یہ کام کرے تو یہ انجام پذیر ہوسکتا ہے۔" اشاعۃ السنۃ جلد 16 نمبر 12 صفحہ 361) نیز لکھا کہ یہ کام فقط مجھ ہی سے کامیاب طریق پر انجام پذیر ہو گا۔کسی دوسرے سے نہیں۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا یہ بیان حضور کی خدمت میں 21 اکتوبر 1895ء کو پہنچا۔حضور کے پیش نظر تو اپنے آقا ومولیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کا کام تھا۔کوئی کریڈٹ لینا مقصود نہیں تھا۔چنانچہ آپ نے اسی دن اشتہار شائع کرتے ہوئے اعلان کر دیا۔کہ میں یہ مقدس ذمہ داری مولوی صاحب موصوف کو سونپتا ہوں۔یہ اعلان اس وقت کیا گیا تھا جب کہ یہ تحریک پنجاب اور ہندوستان کے کونے کونے میں پورے زور شور سے جاری تھی اور اس پر دستخط کر کے بھجوانے والوں کی تعداد دو ہزار پچھتر تک پہنچ چکی تھی۔اور ابھی بہت سے شہروں سے اطلاعات آنا باقی تھیں اور اس کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 512-519) مگر افسوس مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے جنہیں یہ اہم دینی خدمت سپرد کی گئی تھی اس تحریک سے کھلی غداری کی اور ایک اہم کام کھٹائی میں پڑ گیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ملک کی فضا بد سے بدتر صورت اختیار کر گئی اور معاندین اسلام پہلے سے بھی زیادہ بے باکی کا مظاہرہ کرنے لگے۔چنانچہ 1897ء میں ایک متعصب عیسائی احمد شاہ شائق نے " امہات المومنین " جیسی اشتعال انگیز کتاب لکھ کر مسلمانوں میں آگ لگادی۔حضور نے یہ صورت دیکھ کر حکومت کو پھر توجہ دلائی کہ وہ مذہبی مباحثات کی اصلاح کے لئے قانون کی توسیع کرے بلکہ ہنگامی حالات کے پیش نظر یہ بھی تجویز پیش فرمائی کہ وقتی طور پر یہ قانون بنا دیا جائے کہ کوئی فریق کسی دوسرے فریق پر حملہ کرنے کا مجاز نہیں اسے محض اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے کی اجازت ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 188) لیکن حکومت اب بھی اس طرف متوجہ نہ ہوئی۔اور اصلاح احوال کے لئے اس نے کوئی قدم نہ اٹھایا۔جس کا خمیازہ مسلمانوں کو آگے چل کر کتاب " رنگیلا رسول" اور رسالہ " در تمان" کی شکل میں بھگتنا پڑا۔اور فرقہ وارانہ کشیدگی خطرناک شکل اختیار کر گئی۔عیسائیت کی کتب کے مقابل پر اسلام کی تائید میں آپ کے درد بھرے اقتباسات ہندوستان بالخصوص پنجاب میں تیرھوں صدی کے آغاز سے اسلام کے مخالف ،تعلیمات اسلامی کے رد اور بانی اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف دشنام دہی پر مشتمل کتب، پمفلٹس ، رسالے اور بروشر کروڑوں کی تعداد میں شائع ہوئے۔اسلام کا درد اور محبت رکھنے والے کے لئے یہ کتب پڑھنا تو کجا دیکھنا بھی گوارا نہ تھا۔پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے اس زمانے کا ماموران تکلیف دہ کتب اور رسالوں کو کیسے برداشت کر سکتا تھا۔اس کا دل تو پیدائشی طور پر ہی محبت رسول سے گندھا ہوا تھا۔یہاں اغیار کے حملوں اور اس کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جن جذبات کا اظہار فرمایا اس کی چند تحریریں اس غرض سے دی جارہی ہیں تا ایک منصف کو یہ بخوبی