ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 63
63 مسلمانوں کی طرف سے اس اقدام کا خیر مقدم برصغیر میں ایک زبر دست رسہ کشی جاری تھی جس میں اسلام کی مخالف سبھی طاقتیں متحد تھیں اور مسلمان بالکل بے دست و پا تھے اور کسی ایسی آواز کے منتظر تھے جو انہیں ناموس مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے متحد کر دے چنانچہ جو نبی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے یہ آئینی تحریک شروع ہوئی۔ہندوستان کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک بسنے والے ہر خیال کے مسلمانوں نے آپ کی پُر زور تائید کی اور مختصر وقت میں ملک کے نامی گرامی علماء، سرکاری افسر، وکلاء، تجار وغیرہ ہر طبقہ کے لوگوں نے بڑی گرم جوشی سے درخواست پر دستخط کر دیئے۔آریہ دھرم میں حضور نے 704 ناموں کی فہرست بھی دی ہے۔( آریہ دھرم از روحانی خزائن جلد 10 صفحه 97) برطانوی ہند کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب کہ مسلمان اختلاف مسلک کے باوجود ایک قومی مسئلہ پر مجتمع ہوئے اور اتحاد کا انتہائی خوشکن نظارہ دیکھنے میں آیا۔نواب محسن الملک کا مکتوب اس موقع پر سرسید احمد خاں کے سیاسی جانشین، علی گڑھ کالج اور ایجوکیشنل کانفرس کے مہتمم اور آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے سیکرٹری نواب محسن الملک سید مہدی علی خاں نے حضور کو مخاطب کر کے آپ کی اسلامی خدمات سراہتے ہوئے 2 اکتوبر 1895ء کو بمبئی سے اپنے ایک مکتوب میں لکھا۔" آپ کا چھپا ہوا خط مع مسودہ درخواست کے پہنچا۔میں نے اسے غور سے پڑھا اور اس کے تمام مالہ وما علیہ پر خیال کیا۔در حقیقت دینی مباحثات و مناظرات (میں) جو دل شکن اور جیسی درد انگیز باتیں لکھی اور کہی جاتی ہیں وہ دل کو نہایت بے چین کرتی ہیں۔اور ایسے ہر شخص کو جسے ذرا بھی اسلام کا خیال ہوگا۔روحانی تکلیف پہنچتی ہے۔خدا آپ کو اجر دے کہ آپ نے دلی جوش سے مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہا ہے۔یہ کام بھی آپ کا مجملہ اور بہت سے کاموں کے ہے۔جو آپ مسلمانوں کے بلکہ اسلام کے لئے کرتے ہیں۔یہ تجویز جو آپ فرماتے ہیں گورنمنٹ سے منظور ہو جاوے تو اس میں شبہ نہیں کہ وہ مہلک بیماری جو و با کی طرح پھیل رہی ہے اور جس سے ایک مذہبی آدمی کو بہت تکلیف پہنچتی ہے جاتی رہے۔۔۔۔۔آپ یقین رکھیے کہ میں ایسے کاموں میں جن سے اسلام پر جو حملے ہوتے ہیں وہ روکے جائیں اور مسلمان کو جو تکلیف پہنچائی جاتی ہے اس میں تخفیف ہو دل و جان سے مدد کرنے کے لئے موجود ہوں۔" تاریخ احمدیت جلد 1 صفحہ 540) اس کے بالمقابل مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی تنہا وہ انسان تھے جنہوں نے مخالفت کا بر ملا اور تحریری اظہار کیا اور بجائے تائید کرنے یا کم از کم خاموش رہنے کے "دجال کا دیانی کی نئی چال" کے عنوان سے ایک ٹریکٹ شائع کر ڈالا جس میں یہ مخالفانہ پراپیگنڈا کیا کہ " کا دیانی کا مقصود اس تجویز سے مسلمانوں کو اپنی خیر خواہی جتانا اور اس ذریعہ سے ان کا مال مارنا ہے۔اور اس تجویز کا اس کے ہاتھ سے انجام پذیر ہونا دو وجہ سے ناممکن ہے۔اول یہ کہ وہ خوداس جرم کا مرتکب ہے جس کو اس درخواست سے ہٹانا چاہتا ہے۔دوم یہ کہ اس کی لائکلٹی ( وفاداری ) مشتبہ ہے۔کوئی