ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 59
59 حضور نے اس کتاب کے آخر میں صلیبی فتنہ کی تباہی اور اس کے بداثرات سے بچنے کے لئے دردانگیز دعا بھی کی جواب شاندار طریق سے پوری ہو رہی ہے چنانچہ جس وقت آپ نے یہ دعا کی، عیسائیت کا خوفناک طوفان ہر طرف چھایا ہوا تھا مگر ایک ماہ کے اندراندر کسوف و خسوف کا نشان ظاہر ہوا۔توزین الاقوال " میں پادری عماد الدین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف گورنمنٹ کو اکسایا۔اس کے بالمقابل آپ نے اسلام سے مرتد ہو کر پادری بن جانے کے بعد حضرات کو مولوی کا لفظ اپنے ساتھ استعمال کرنے پر انگریزی گورنمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کذابوں کو مولوی کہلانے سے منع کرے کیونکہ اُن کے اپنے ساتھ مولوی لکھنے سے اسلام کی بے عزتی ہوتی ہے۔نور القرآن نمبر 2 پادری فتح مسیح نے فتح گڑھ ضلع گورداسپور سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دوخطوط لکھے جن میں اس بد باطن نے رسول کائنات حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہوئے امام الطیبین وسید المعصومین پر شرمناک تہمتیں بھی لگائیں۔ان دشنام آلود خطوط کے جواب میں حضور نے "نور القرآن " (حصہ دوم) لکھا۔پادری لوگ چونکہ اس عرصہ سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس و حرمت پر بے دریغ حملے کر رہے تھے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بالخصوص نور القرآن حصہ دوم کی تالیف سے ان کی گستاخیوں اور بد زبانیوں کی روک تھام کرنے کے لئے الزامی رنگ کے جوابات کی ضرورت محسوس کی اور انجیل کے بیان کردہ " یسوع مسیح " کا فوٹو پیش کرنا شروع کر دیا۔علم الکلام کا یہی الزامی طریق تھا۔جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آقا کی تو ہین کو برداشت نہ کرتے ہوئے اپنے لٹریچر میں جابجا استعمال فرمایا۔پادری فتح مسیح نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر آج ایسا شخص گورنمنٹ انگریزی کے زمانہ میں ہوتا تو گورنمنٹ اس سے کیا سلوک کرتی۔حضور نے اس سوال کا جو پُر شوکت جواب دیا وہ تاریخ میں ہمیشہ آب زر سے لکھا جائے گا۔حضور نے لکھا۔"اگر وہ سید الکونین اس گورنمنٹ کے زمانے میں ہوتے تو یہ سعادت مند گورنمنٹ اُن کی کفش برداری اپنا فخر سمجھتی جیسا کہ قیصر روم صرف تصویر دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔" (نورالقرآن نمبر 2 از روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 382) آریہ دھرم میں اسلامی تعلیمات کا دفاع قادیان کے آریہ سماجیوں نے پادری فتح مسیح جیسے پادریوں کی نقل کرتے ہوئے اسلام اور سید المعصومین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر نہایت گندے اور ناپاک الزامات لگائے اور انہیں ایک اشتہار کی شکل میں شائع کیا جس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قلم اٹھایا اور ان کے مذہب کی قلعی کھولنے کے علاوہ اسلامی نظام اخلاق و تمدن کی فضیلت روز روشن کی طرح آریہ دھرم میں ثابت کر دکھائی۔