ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 60 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 60

60 ناموس مصطفوی کے دفاع میں مذہبی مباحثات کے لئے آئینی تحریک حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ذات پر ملک میں چاروں طرف جو حملے ہو رہے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کے دفاع کے لئے اب تک پوری قوت سے لڑ رہے تھے اور ملک میں جہاں بھی کوئی شخص سید المعصومین امام المتقین حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بد زبانی کرتا آپ کا قلم فورا حرکت میں آجاتا۔لیکن 1895ء کے آخر میں آپ کے اس دفاع نے ایک نئی شکل اختیار کر لی۔یعنی آپ نے 22 ستمبر 1895ء کو بذریعہ اشتہار مذہبی مناظرات کی اصلاح کے لئے وائسرائے ہند سے درخواست کرتے ہوئے یہ آئینی تحریک اٹھائی که حکومت تعزیرات ہند کی دفعہ 298 میں توسیع کرتے ہوئے قانون پاس کرے۔اس ضمن میں آپ نے ایک نوٹس میں تحریر فرمایا:۔" ہمیں اپنے دلآزار ہمسایوں بمخالفوں سے ایک اور شکایت ہے اگر ہم اس شکایت کے رفع کے لئے اپنی محسن اور مہربان گورنمنٹ کو اس طرف توجہ نہ دلاویں تو کس کو دلاویں اور وہ یہ ہے کہ ہمارے مذہبی مخالف صرف بے اصل روایات اور بے بنیاد قصوں پر بھروسہ کر کے جو ہماری کتب مسلّمہ اور مقبولہ کی رو سے ہر گز ثابت نہیں ہیں بلکہ منافقوں کے مفتریات ہیں ہمارا دل دکھاتے ہیں اور ایسی باتوں سے ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں اور گالیوں تک نوبت پہنچاتے ہیں جن کا ہماری معتبر کتابوں میں نام ونشان نہیں۔اس سے زیادہ ہمارے دل دکھانے کا اور کیا موجب ہوگا کہ چند بے بنیاد افتر اؤں کو پیش کر کے ہمارے اس سید و مولی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر زنا اور بد کاری کا الزام لگانا چاہتے ہیں جس کو ہم اپنی پوری تحقیق کی رو سے سید المعصومین اور ان تمام پاکوں کا سردار سمجھتے ہیں جو عورت کے پیٹ سے نکلے اور اس کو خاتم الانبیاء جانتے ہیں کیونکہ اس پر تمام نبوتیں اور تمام پاکیز گیاں اور تمام کمالات ختم ہو گئے۔اس صورت میں صرف یہی ظلم نہیں کہ ناحق اور بے وجہ ہمارا دل دکھایا جا تا ہے اور اس انصاف پسند گورنمنٹ کے ملک میں ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی جاتی ہیں اور بڑے بڑے پیرایوں میں ہمارے اس مقدس مذہب کی توہین کی جاتی ہے۔بلکہ یہ ظلم بھی ہوتا ہے کہ ایک حق اور راست امر کومحض یاوہ گوئی کے ذخیرہ سے مشتبہ اور کمزور کرنے کے لئے کوشش کی جاتی ہے اگر گورنمنٹ کے بعض اعلیٰ درجہ کے حکام دو تین روز اس بات پر بھی خرچ کریں کہ ہم میں سے کسی منتخب کے روبرو ایسے بیجا الزامات کی وجہ ثبوت ہمارے مذکورہ بالا مخالفوں سے دریافت فرماویں تو زیرک طبع حکام کو فی الفور معلوم ہو جائے گا کہ کس قدر یہ لوگ بے ثبوت بہتانوں سے سرکار انگریزی کی وفا دار رعایا اہل اسلام پر ظلم کر رہے ہیں۔ہم نہایت ادب سے گورنمنٹ عالیہ کی جناب میں یہ عاجزانہ التماس کرتے ہیں کہ ہماری محسن گورنمنٹ ان احسانوں کو یاد کر کے جواب تک ہم پر کئے ہیں ایک یہ بھی ہماری جانوں اور آبروؤں اور ہمارے ٹوٹے ہوئے دلوں پر احسان کرے کہ اس مضمون کا ایک قانون پاس کر دیوے یا کوئی سرکلر جاری کرے کہ آئندہ جو