ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 58
58 "شحنہ حق" کی اشاعت براہین احمدیہ اور سرمہ چشمہ آریہ کی اشاعت نے آریوں میں ایک کھلبلی مچادی تھی۔آریوں نے حق و صداقت کی تاب نہ لا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ملک میں مخالفت کی آگ لگا دی۔پنڈت لیکھرام نے لا جواب ہو کر تکذیب براہین احمدیہ اور دوسرے آریہ سماجیوں نے نہایت اشتعال انگیز گندے اور گالیوں سے بھرے اشتہارات اور رسالوں سے ملک کی فضاء مکدر کر دی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گندی زبان استعمال ہونے لگی اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوقتل کی دھمکیاں ملنے لگیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غیرت نے یہ گوارا نہ کیا کہ آپ ایسے گندے الزامات پر خاموش رہیں۔آپ نے اس باطل فرقے کی ان جارحانہ سرگرمیوں کو بے نقاب کرنے ، ویدوں کی ماہیت بنانے اور تکذیب براہین احمدیہ پر کاری ضرب لگانے اور اسلام کی پاکیزہ تعلیم بیان کرنے کے لئے قلم اٹھایا اور باوجود دیگر دینی مصروفیات کے چند ہی گھنٹوں میں شحنہ حق ایسی بلند پایہ کتاب تصنیف کر کے آریہ سماج کے عقائد کا قلع قمع کر دیا۔اس سے قبل تکذیب براہین احمدیہ میں درج اسلام سے متعلق غلط عقائد کے تدارک کے لئے آپ کی نظر انتخاب حضرت مولانا نورالدین پر پڑی۔جس کے جواب میں آپ نے تصدیق براہین احمدیہ کے نام سے دندان شکن کتاب تحریر فرمائی جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔نور الحق کی تصنیف " جنگ مقدس " میں عیسائیت کو جو شکست فاش ہوئی اس نے عیسائیوں کی کمر توڑ دی اور نہ صرف ہندوستان کے پادری اس سے گھبرا گئے بلکہ یورپین مشن کو فکر لاحق ہوئی کہ آئندہ اسلام کا مقابلہ کیسے ہو گا۔چنانچہ اپنی نا کامی اور خفت پر پردہ ڈالنے کے لئے مشہور دریدہ دہن اور زبان دراز پادری عماد الدین نے " تو زین الاقوال" کے نام سے ایک نہایت دل آزار اور اشتعال انگیز کتاب لکھی جس میں قرآن مجید کی فصاحت اور بلاغت پر اعتراض کئے اور فخر کا ئنات رسول خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر نہایت درجہ ناپاک ، بودے، رکیک اور شرمناک گندے حملے کئے۔اس کتاب نے ہندوستان میں بڑا اشتعال پیدا کر دیا۔مگر اس کا جواب دینے کی توفیق کسی اور مسلمان کو تو نہ ہوئی البتہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چند دنوں میں اس کا ناقابل تردید جواب لکھا۔جس میں حضور نے پادری عمادالدین سمیت مرتدین از اسلام پادریوں کو میدان مقابلہ میں آنے کے لئے للکارا۔اور اعلان کیا کہ اگر وہ سب مل کر بھی اس کتاب کا حقیقی جواب تین ماہ میں لکھ دیں۔تو انہیں پانچ ہزار روپیہا انعام دیا جائے گا لیکن اگر وہ نہ تو جواب لکھیں اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین سے باز آئیں تو خدا کی ان پر لعنت ہو۔حضور کا یہ جواب 1894ء کے آغاز میں "نور الحق " حصہ اول کے نام سے طبع ہوا جو نہایت منفی و سمیع اور فصیح و بلیغ عربی زبان میں ہے۔