ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 57 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 57

57 نے ہمیں دین کے لئے روحانی حاکم بنایا ہے جس طرح آپ کے وقت کاموں کے مقرر ہیں اسی طرح ہمارے بھی کام مقرر ہیں اب ہماری نماز کا وقت ہو گیا۔ہم کھڑے ہو گئے۔فنانشل کمشنر بھی کھڑے ہو گئے اور خوش خوش ہمارے ساتھ خیمہ تک باہر آئے اور ٹوپی اُتار کر سلام کیا اور ہم چلے آئے۔" تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 518) آریہ سماج کے عقائد کے ابطال کے لئے کتب کی تحریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب ہوشیار پور میں چلہ کشی کے بعد پسر موعود کی پیشگوئی فرمائی۔تو اس کے بعد ہوشیار پور میں آریہ سماج کے ممتاز رکن ماسٹر مرلی دھر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلامی تعلیمات پر چند سوالات پیش کرنے کی درخواست کی۔خدا کے اس پہلوان نے اسے بسر و چشم اس لئے قبول فرمایا کہ یوں اسلام کی حقانیت اور پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور آپ کا عالی شان مقام بیان کرنے کا موقع ملے گا۔اس مباحثہ کے لئے دونشتیں طے پائیں۔پہلی نشست میں ماسٹر مرلی دھر نے اسلام کے بارے میں سوال کرنے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جواب دینے تھے۔جبکہ دوسری نشست میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آریہ سماج کے مسلمات پر سوال کرنے تھے اور ماسٹر صاحب نے ان کے جواب دینے تھے۔11 مارچ 1886ء کی تاریخ مقرر ہوئی۔ہر دو نشستوں میں ماسٹر مرلی دھر صاحب اپنے رفقاء سمیت اٹھ کر چلے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چند ماہ بعد ہی یہ مباحثہ سرمہ چشم آریہ کے نام سے شائع کر دیا۔جس میں آپ نے ان تمام سوالوں کے تفصیل سے جواب دیئے جو مباحثے میں نا تمام رہ گئے تھے۔اس میں حضور نے اسلامی تعلیمات کو کھول کھول کر بیان فرمایا اور آریوں کے عقائد کا رد لکھا۔اور اس کتاب کا رد لکھنے کا 500 روپے کا انعامی اشتہار بھی دے دیا۔اس کتاب نے اپنوں اور غیروں میں شہرت پائی۔اہل حدیث کے عالم مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ " اشاعۃ السنہ " میں اس کتاب پر ایک طویل ریویو لکھا۔جس میں سے صرف وہ حصہ یہاں درج کیا جاتا ہے جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر غیرت کا اعتراف ہے۔آپ تحریر کرتے ہیں۔ایک فائدہ تو یہ ہے کہ اصول اسلام کی خوبی اور اصول مذہب آریہ کی بُرائی زیادہ شیوع پائے گی اور اس سے آریہ سماج کی ان مخالفانہ کاروائیوں کو جو اسلام کے مقابلہ میں وہ کرتے ہیں روک ہوگی۔۔۔ایک شخص ( مرزا غلام احمد ) اسلام کی حمایت میں تمام جہان کے اہل مذہب سے مقابلہ کر کے وقف اور فدا ہورہا ہے " (اشاعۃ السنہ جلد 9 نمبر 6 صفحہ 145-158 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 1 صفحہ 300)