ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page viii of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page viii

viii ہے جو ہم نے دکھانا ہے۔“ الفضل انٹر نیشنل 12 اکتوبر 2012ء) پھر آپ 28 ستمبر 2012ء کے خطبہ میں جماعت کو لائحہ عمل دیتے ہوئے فرماتے ہیں: آج یہ کام ایک لگن کے ساتھ صرف جماعت احمدیہ ہی کر سکتی ہے۔اس کے لئے ہر طرح کے پروگرام کی پہلے سے بڑھ کر کوشش کریں۔سیمینار بھی ہوں، جلسے بھی ہوں اور ان میں غیروں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں بلائیں۔پس ہمیں ان لوگوں کا منہ بند کرنے کے لئے اور کم از کم شرفاء اور پڑھے لکھے لوگوں کو بتانے کے لئے بھر پور کوشش کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ غلط طریق دنیا کا امن برباد کر رہا ہے، تا کہ جس حد تک ممکن ہو ان کے ظالمانہ رویے کی حقیقت سے ہم دنیا کو آگاہ کر سکیں۔ہم احمدی مسلمان جن کو خدا تعالیٰ نے مسیح موعود اور مہدی موعود کے ہاتھ پر جمع کر دیا ہے، ہمارا بہر حال کام ہے کہ دنیا کو ہدایت کے راستے دکھائیں، امن اور سلامتی کے طریق بتائیں۔تا کہ دنیا کو حقیقی اسلامی تعلیم کا پتہ چل سکے۔دنیا داروں کو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہمارے دل میں اور حقیقی مسلمان کے دل میں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور آپ کا اسوہ حسنہ کس قدرخوبصورت ہے اور اس میں کیا حسن ہے؟ ایک حقیقی مسلمان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس قدر عشق اور محبت ہے، اس کا یہ لوگ اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔الفضل انٹر نیشنل 19 اکتوبر 2012ء) یہ فیصلہ کیا کہ 2013 ء کا سال سیرت النبی کے طور پر منایا جائے۔جس میں ہر پندرھواڑے میں سیرت النبی پر سیمینارز میں علماء کے لیکچر ز ہوں نیز حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے جانے والے حملوں کے رڈ میں قیادت اصلاح وارشاد درج ذیل عناوین پر دو کتب تیار کروائے۔آنحضرت پر کئے جانے والے اعتراضات اور ان کے جوابات (از افاضات حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء سلسلہ) ناموس رسالت پر حملوں کا دفاع“ ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء سلسلہ کے ارشادات کی روشنی میں )