ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page vii
vii عرض ناشر یہ امر مشاہدہ میں آیا ہے کہ اسلام اور بانی اسلام سید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات با برکت پر حملے اتنی شدت اتنی کثرت کے ساتھ اس قسم کے دجل کے ساتھ اس سے قبل نہیں ہوئے۔جس قدر عاشق رسول حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے زمانہ میں ہوئے اور اس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔اسی طرح کی ایک سازش اسلام کے خلاف 2012ء میں امریکہ میں ایک خبیث الطبع امریکن عیسائی نکولا بیلے (Nakaula Basseley) نے کی جب اس نے قرآن کریم پر ایک فلم بنائی جس میں نہ صرف اسلامی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا بلکہ بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر گندے الزام بھی لگائے۔جس پر جماعت احمدیہ کے امام حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 21 ستمبر ، 28 ستمبر اور 5 اکتوبر کو تین خطبات ارشا د فرمائے۔جن میں حضور نے جہاں اسلامی تعلیمات کا بھر پور دفاع فرمایا وہاں عالمگیر جماعت کو اس کا جواب دینے کے لئے جامع لائحہ عمل بھی پیش فرمایا۔آپ فرماتے ہیں: ” جہاں ایک احمدی مسلمان اس بیہودہ گوئی پر کراہت اور غم وغصہ کا اظہار کرتا ہے وہاں ان لوگوں کو بھی اور اپنے اپنے ملکوں کے ارباب حل و عقد کو بھی ایک احمدی اس بیہودہ گوئی سے باز رہنے اور روکنے کی طرف توجہ دلاتا ہے اور دلانی چاہئے۔دنیاوی لحاظ سے ایک احمدی اپنی سی کوشش کرتا ہے کہ اس سازش کے خلاف دنیا کو اصل حقیقت سے آشنا کرے اور اصل حقیقت بتائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے خوبصورت پہلو دکھائے۔اپنے ہر عمل سے آپ کے خوبصورت اُسوہ حسنہ کا اظہار کر کے اور اسلام کی تعلیم اور آپ کے اسوہ حسنہ کی عملی تصویر بن کر دنیا کو دکھائے۔ہاں ساتھ ہی یہ بھی جیسا کہ میں نے کہا کہ درود و سلام کی طرف بھی پہلے سے بڑھ کر توجہ دے۔مرد، عورت، جوان، بوڑھا، بچہ اپنے ماحول کو ، اپنی فضاؤں کو درود و سلام سے بھر دے۔اپنے عمل کو اسلامی تعلیم کا عملی نمونہ بنادے۔پس یہ خوبصورت رد عمل