ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 56
56 مذہبی کا نفرنس میں سیکرٹری آریہ سماج کی تقریر کے دعاوی کا رد آریہ سماج نے اپنی مذہبی کا نفرنس میں اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو بے بنیاداور نا پاک الزامات لگائے اور قرآن کریم کو نشانہ تضحیک بنایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شروع جنوری 1908 ء میں ہی اس کے جواب میں "چشمہ معرفت " کے نام سے ایک مبسوط اور جامع کتاب تالیف فرما دی جو 15 مئی 1908 ء کو شائع ہوئی۔اس کتاب کے پہلے حصہ میں حضور علیہ السلام نے ان دعاوی کا رد فرمایا ہے جو ڈاکٹر بھاردواج سیکرٹری آریہ سماج لاہور نے اپنی تقریر میں وید کے بارے میں کئے تھے۔دوسرے حصہ میں ان حملوں کا رد ہے جو قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے گئے تھے۔کتاب کے آخر میں حضور کا وہ معرکہ آراء مضمون ہے جو آریہ سماج کی مذہبی کا نفرنس میں پڑھا گیا تھا۔غیر مذاہب کو چیلنج حضور علیہ السلام نے اس میں اسلام کے زندہ مذہب ہونے کے متعلق تمام غیر مذاہب کو چیلنج کیا اور لکھا کہ " میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اسلام ایسے بدیہی طور پر سچا ہے کہ اگر تمام کفار روئے زمین دعا کرنے کے لئے ایک طرف کھڑے ہوں اور ایک طرف صرف میں اکیلا اپنے خدا کی جناب میں کسی امر کے لئے رجوع کروں تو خدا میری ہی تائید کرے گا۔مگر نہ اس لئے کہ سب سے میں ہی بہتر ہوں بلکہ اس لئے کہ میں اس کے رسول پر دلی صدق سے ایمان چشمه معرفت از روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 339-340) لایا ہوں۔" فنانشل کمشنر پنجاب کی قادیان آمد اور اسلام کا پیغام 1908ء میں فنانشنل کمشنر پنجاب سر جیمز ولسن اور چند امریکن سیاح قادیان آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہر دو موقعوں کو غنیمت جانتے ہوئے اسلام کا حقیقی پیغام ان کو پہنچایا۔حضور ملاقات کے بعد بہت ہشاش بشاش تھے۔حضور نے ملاقات میں اسلام کے پیغام کو یوں بیان فرمایا۔" ہم نے خوب کھول کھول کر فنانشل کمشنر کو اسلام کی خوبیاں سنائیں اور اپنی طرف سے حجت پوری کر دی۔مہدی خونی کے بارے میں بھی صاحب نے سوال کیا ہم نے بتایا کہ ہمارے فلاں فلاں رسالہ کو دیکھو۔ہم خونی مہدی کے عقیدہ کو غلط سمجھتے ہیں ہمارا یہی عقیدہ ہے کہ دین اسلام دلائل قویہ اور نشانات آسمانی سے پھیلا ہے اور اسی سے آئندہ پھیلے گا اور جو جنگیں اسلام میں ہوئیں وہ سب دفاعی تھیں۔اسلام کا تلوار سے پھیلنے کا غلط عقیدہ مخالفوں کی اختراع ہے۔صاحب فنانشل کمشنر نے اور بھی باتیں کرنا چاہیں وہ دنیاوی باتیں تھیں۔میں نے کہا۔آپ دنیا وی حاکم ہیں خدا