ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 54
54 کرنی چاہئے۔مولوی صاحب اس وقت ہمارے لیڈر ہیں اس لئے جب تک وہ بیٹھے ہیں اس وقت تک نظام کی پابندی کے لحاظ سے آپ کو اٹھ کر باہر نہیں جانا چاہئے۔ان کی یہ بات اس وقت کے لحاظ سے مجھے معقول معلوم ہوئی اور میں بیٹھ گیا۔جب ہم واپس آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس واقعہ کا علم ہوا تو۔آپ کو اس قسم کا غصہ پیدا ہوا کہ ویسا غصہ آپ میں بہت ہی کم دیکھا گیا ہے۔آپ بار بار فرماتے۔دوسرے مسلمان تو مُردہ ہیں ان کو کیا علم ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا شان ہے۔لیکن ہم نے تو اس طرح اسلامی تعلیم کو کھول کھول کر بیان کر دیا ہے اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور آپ کے کمالات کو روشن کیا ہے کہ اس کے بعد یہ تسلیم ہی نہیں کیا جا سکتا کہ ہماری جماعت کو یہ معلوم نہیں تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا شان ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تمہیں تو ایک منٹ کے لئے بھی اس جگہ پر بیٹھنا نہیں چاہئے تھا۔بلکہ جس وقت اس نے یہ الفاظ کہے تھے تمہیں اسی وقت کھڑے ہو جانا چاہئے تھا اور اس ہال سے باہر نکل آنا چاہئے تھا اور اگر وہ تمہیں نکلنے کے لئے راستہ نہ دیتے تو پھر اس ہال کو خون سے بھرا ہوا ہونا چاہئے تھا۔یہ کیونکر تم نے بے غیرتی دکھائی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی گئیں اور تم خاموشی سے بیٹھ کر ان گالیوں کو سنتے رہے۔حضرت مولوی نور الدین اس وقت آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔وہ جماعت کے ایک بڑے آدمی تھے مگر وہ بھی سر ڈالے بیٹھے رہے۔آپ بار بار فرماتے تمہاری غیرت نے یہ کیونکر برداشت کر لیا کہ تم اس جگہ پر بیٹھے رہو جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہو رہی ہے۔(سیرۃ المہدی حصہ اول صفحہ 219-220، تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 499-505) "مولوی" جیسے پاک لفظ کو ہم کسی غیر مسلم کے لئے نہیں لکھ سکتے حضرت مولوی محمد الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک دیسی پادری صاحب قادیان آئے ان پادری صاحب کا نام گل محمد تھا عام طور پر لوگ ان کو پادری گل محمد کے نام سے پکارتے تھے مگر وہ اپنے آپ کو مولوی گل محمد کہلواتا تھا عربی صرف و نحو پڑھا ہوا تھا۔۔۔۔ہمارے سامنے وہ بلا روک ٹوک اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح کے متعلق سوال و جواب ہی پر اکتفانہ کرتا تھا بلکہ اعتراض اور اعتراض بھی عنید انہ رنگ میں کیا کرتا تھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسلام کے خلاف پادری عمادالدین صاحب ، پادری فنڈل صاحب اور اس قسم کے دوسرے دشمنان اسلام پادری ٹھاکر داس وغیرہ کا جمع کیا ذخیرہ اسے از بر یاد تھا۔اس کی خواہش تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس کی ملاقات ہو جائے، حضرت قاضی امیر حسین صاحب مرحوم کی کوشش سے ایک دن مسجد میں ہی نماز ظہر یا عصر کے بعد اس کی ملاقات کا انتظام ہوا۔۔۔حضور نے اسلام کی صداقت اور اپنے دعوے کے متعلق کچھ گفتگو فرمائی اس پر اس نے کچھ اعتراض کیا