ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 53 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 53

53 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مضمون کے ابتداء میں الہام اور وحی کے متعلق لوگوں کے عقائد کا ذکر کر کے اس کے متعلق اپنا مذ ہب بیان فرمایا۔اس ضمن میں اسلام کی عالمگیر تعلیم اور تمام قوموں میں نبیوں کی بعثت پر لطیف بحث فرمائی اور ثابت کیا کہ صرف اور صرف اسلام ہی ایک مذہب ہے جس کے ذریعہ اس زمانہ میں نبوت کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔اس بحث میں امن عامہ کے قیام اور عام رواداری و صلح کاری کی اسلامی تعلیم نہایت اچھوتے انداز میں پیش فرمائی اور اسلامی مسئلہ جہاد کے متعلق پیدا شدہ غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے اسلام کے حقیقی نظریہ جہاد کی وضاحت فرمائی۔سلسلہ کے قدیم مخالف اخبار" پیسہ " نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس مضمون بارے اپنی 3 دسمبر 1907ء کی اشاعت میں لکھا:۔"مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے ابتدائی حصہ میں اسلام کی عالمگیر تعلیم صلح جوئی و امن پسندی پر قابل تعریف بحث کی گئی تھی اور مذاہب غیر کو توجہ دلائی گئی تھی کہ اسلام جس طرح اپنے پیروؤں کو سابق پیغمبروں کی تعظیم اور کتب ہائے مقدسہ کی تکریم کا حکم دیتا ہے اسی طرح وہ بزرگان اسلام کو ناگوار لفظوں میں یاد کر کے مسلمانوں کا دل نہ ( الحکم 10 دسمبر 1907ء) دکھا ئیں۔" تمام مذاہب کے نمائندوں کی تقریر میں کوئی خلاف تہذیب وغیر شائستہ بات نہ تھی اور حضور کا مضمون تو سرتا پا صلح و امن کا پیغام تھا۔مگر آریہ سماج کے سیکرٹری ڈاکٹر چرنجیو بھاردواج ( جس نے بار بار تہذیب و شائستگی کا یقین دلایا تھا) نے اپنے مضمون میں نہایت شوخی اور بے باکی سے پاکوں کے سردار حضرت سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ذات بابرکات پر ایسی تہمتیں لگائیں کہ مسلمانوں کے جگر پاش پاش ہو گئے۔صدرا جلاس نے اگر چہ بعد ازاں معذرت کی کہ یہ لیکچر ہم نے پہلے نہیں دیکھا مگر یہ عذر گناہ بدتر از گناہ تھا۔وہ چاہتے تو لیکچر کے دوران تقریر ہی روک سکتے تھے۔درحقیقت یہ پرلے درجے کی شرارت اور بدگوئی ایک سوچی کبھی انتظامی سازش کے ساتھ عمل میں لائی گئی تھی جس کا مقصد صرف یہ تھا کہ دسمبر 1896ء میں جلسہ اعظم مذاہب کے موقع پر اسلام کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے جوشان دار فتح نصیب ہوئی تھی اس پر پردہ ڈال دیا جائے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ " میری عمر اس وقت سترہ سال کی تھی مگر میں اس بدگوئی کو برداشت نہ کر سکا اور میں نے کہا میں تو ایک منٹ کے لئے بھی اس جلسہ میں نہیں بیٹھ سکتا۔میں یہاں سے جاتا ہوں۔اکبر شاہ خاں صاحب نجیب آبادی مجھے کہنے لگے مولوی صاحب ( حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب۔ناقل ) تو یہاں بیٹھے ہیں اور آپ اٹھ کر باہر جارہے ہیں۔اگر یہ غیرت کا مقام ہوتا تو کیا مولوی صاحب کو غیرت نہ آتی ؟ میں نے کہا کچھ ہو مجھ سے تو یہاں بیٹھا نہیں جاتا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ سخت کلامی مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتی۔وہ کہنے لگے آپ کو کم سے کم نظام کی اتباع