ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 52
52 ہوا کہ ہم مرزا صاحب کے کسی بھی نشان کے گواہ نہیں۔اس کی وجہ یہ بنی کہ دسمبر 1906 ء کے جلسہ سالانہ سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اعلان فرمایا تھا کہ قادیان کے تمام ہندو خاص طور پر لالہ شرمیت اور لالہ ملا وامل میرے بیسیوں نشانات کے گواہ ہیں۔تب حضور نے ایک فیصلہ کن رسالہ بعنوان ” قادیان کے آریہ اور ہم تصنیف فرمایا۔حضور نے اس رسالہ میں چند نشانات تحریر فرما کر لکھا کہ :۔میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ سب بیان صحیح ہے اور کئی دفعہ لالہ شرمیت سن چکا ہے اور اگر میں نے جھوٹ بولا ہے تو خدا مجھ پر اور میرے لڑکوں پر ایک سال کے اندر اندر اس کی سزا نازل کرے آمین ولعنة الله على الكاذبين ایسا ہی شرمیت کو بھی چاہیے کہ میری اس قسم کے مقابل پر قسم کھاوے اور یہ کہے کہ اگر میں نے اس قسم میں جھوٹ بولا ہے تو خدا مجھ پر اور میری اولاد پر ایک سال کے اندر اس کی سزا وارد کرے آمین و لعنۃ اللہ علی الكاذبين- ( قادیان کے آریہ اور ہم از روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 442) ایسا ہی مطالبہ حضور علیہ السلام نے لالہ ملا وامل سے بھی کیا۔( قادیان کے آریہ اور ہم از روحانی خزائن جلد 20 صفحه 443) حضور علیہ السلام نے اس رسالہ کے آخر میں آریوں کے پرمیشر اور اس کی صفات کے متعلق عقائد پر جرح فرمائی اور اسلام کی صداقت اور آریہ مذہب کی حقیقی تصویر کو درج ذیل نظم میں پیش فرمایا : - اسلام سے نہ بھاگو راہ ہدی یہی ہے اے سونے والو جا گو انشمس الضحی یہی ہے یہ دونوں لیڈر تو سامنے نہ آئے تا ہم اخبار مجھ چنک“ کے مینیجر اچھر چند نے الحکم کے ایڈیٹر صاحب سے ایک گفتگو کے دوران کہا کہ میں بھی مرزا صاحب کی طرح دعوی کرتا ہوں کہ طاعون سے کبھی نہیں مروں گا۔خدا کی قدرت کہ چند روز کے اندر اندر اس اخبار کا تمام عملہ، ایڈیٹر صاحب کی اولا د اور اہل وعیال خدا کے اس قہر کی لپیٹ میں آگئے اور لقمہ طاعون ہوئے۔تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 484) آنحضور کو گالیاں دی جانے والی مجلس میں بیٹھ رہنے پر حضرت مولوی نورالدین صاحب سے اظہار ناراضنگی آریہ سماج وچھو والی لاہور نے نومبر 1907ء میں مذہبی کا نفرنس کا انعقاد کروا کر مختلف مذاہب کے لیڈروں کو بلوا کر " کون سی کتاب الہامی ہے "پر اپنی اپنی رائے بیان کرنے کا پروگرام بنایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی دعوت دی گئی۔آپ نے اس یقین دہانی پر کہ اس جلسہ میں مذاہب کے متعلق کوئی دل شکنی کی بات نہ ہوگی اس کے لئے مضمون لکھنے کی حامی بھری اور حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب مضمون پڑھنے کے لئے منتخب ہوئے۔