ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 51
51 " بنا بیع الاسلام" کے جواب میں "چشمہ مسیحی " عیسائی پادری نے اپنی کتاب " ینابیع الاسلام " میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ قرآن کریم میں کوئی نئی تعلیم نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (نعوذ باللہ ) گزشتہ انبیاء کی کتب مقدسہ سے سرقہ کر کے قرآنی شریعت کو مرتب کیا ہے۔اس کتاب سے بانس بریلی کے ایک مسلمان نے متاثر ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک خط کے ذریعہ اسلام پر اپنے شک کا اظہار کیا۔حضور علیہ السلام نے 9 مارچ 1906ء کو چشمہ مسیحی کے نام سے ایک تصنیف فرما کر " ینابیع الاسلام" میں اسلام پر اٹھنے والے سوالات ووساوس کے مسکت جواب دیئے اور ثابت فرمایا کہ انجیل لفظ بلفظ طالمود سے نقل ہے۔ایک ہندو نے یہ ثابت کیا ہے کہ انجیل بدھ کی تعلیم کا سرقہ ہے اور خود یورپ کے عیسائی محققین نے لکھا ہے کہ انجیل کی بہت سی عبارتیں اور تمثیلیں یوز آسف کے صحیفہ سے ملتی ہیں تو کیا اب حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیمات کو بھی مسروقہ ہی قرار دیا جائے۔حضور نے تحریر فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کا اگر کوئی حصہ قدیم نوشتوں سے ملتا ہے تو یہ وحی الہی میں تو ارد ہے۔ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو محض اتنی تھے، یونانی اور عبرانی نہیں پڑھ سکتے تھے۔قرآن ایک زندہ معجزہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس میں جو گزشتہ خبریں اور قصے ہیں وہ بھی اپنے اندر پیشگوئیوں کا رنگ رکھتے ہیں۔پھر اس کی فصاحت و بلاغت بھی ایسا معجزہ ہے جس کی آج تک کوئی نظیر نہیں ملتی۔حضور نے اسلام اور عیسائیت کے عقائد و تعلیمات جیسے دربارہ عفو و انتقام کا موازنہ پیش فرمایا اور اسلام کی فضیلت پر نہایت عمدہ پیرا یہ میں نجات حقیقی کا فلسفہ بیان فرمایا اور مسلمانوں کو یوں توجہ دلائی:۔"ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہمارے سید و مولی (اس پر ہزار سلام ) اپنے افاضہ کی رو سے تمام انبیاء سے سبقت لے گئے ہیں کیونکہ گزشتہ نبیوں کا افاضہ ایک حد تک آکر ختم ہو گیا اور اب وہ تو میں اور وہ مذہب مردے ہیں۔کوئی ان میں زندگی نہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فیضان قیامت تک جاری ہے اسی لئے باوجود آپ کے اس فیضان کے اس امت کے لئے ضروری نہیں کہ کوئی مسیح باہر سے آوے بلکہ آپ کے سایہ میں پرورش پانا ایک ادنی انسان کو مسیح بنا سکتا ہے جیسا کہ اس نے اس عاجز کو بنایا۔" چشمه مسیحی از روحانی خزائن جلد 20 صفحه 389) آریوں کے اخبار " شجھ چنک " میں ہرزہ سرائی اور " قادیان کے آریہ اور ہم " کی تصنیف قادیان کے آریوں کے اخبار شجھ چنتک میں ہمیشہ ہی اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہایت ناشائستہ زبان استعمال ہوتی رہی۔اس اخبار میں لالہ شرمیت اور لالہ ملا وامل کی طرف منسوب کر کے ایک اعلان شائع