ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 50 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 50

50 آریہ سماج کی طرف سے ایک بار پھر تو ہین اسلام اور اس کا جواب سیم دعوت اور سناتن دھرم کی صورت میں 1903ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مشورہ کئے بغیر بعض نو مسلم حضرات نے محض ہمدردی اور خیر خواہی کی بناء پر اپنی قوم ( آریہ سماجیوں) پر اتمام حجت کے لئے ایک اشتہار شائع کیا۔اس کے جواب میں آریہ سماج والوں نے " قادیانی پوپ کے چیلوں کی ایک ڈینگ کا جواب" کے نام سے اشتہار دے دیا۔جس میں انہوں نے حسب سابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اعتراضات کے پیرا یہ میں توہین و تحقیر کے سخت الفاظ لکھے اور گالیاں دیں نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور معززین جماعت کی نسبت زبان درازی اور گندی گالیاں دیں۔اس کے ساتھ ساتھ قادیان میں ایک جلسہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔اپنے آقا ومطاع حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایسے سخت توہین آمیز الفاظ کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام متعدد بار اس سے قبل جواب دے چکے ہیں، اس دفعہ آپ کا خیال تھا کہ ایسے گندہ دہن لوگوں سے نہ ہی مخاطب ہوا جائے مگر وحی خاص سے آپ کو اس کا جواب لکھنے کا حکم ہوا۔چنانچہ آپ نے " نیم دعوت " تصنیف فرمائی۔جس میں آپ نے تحریر فرمایا:۔" خدا تعالیٰ نے اپنی وحی خاص سے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اس تحریر کا جواب لکھ اور میں جواب دینے میں تیرے ساتھ ہوں۔تب مجھے اس مبشر وحی سے بہت خوشی پہنچی کہ جواب دینے میں ہمیں اکیلا نہیں۔سو میں اپنے خدا سے قوت پا کر اٹھا اور اس کی روح کی تائید سے میں نے اس رسالہ کولکھا اور جیسا کہ خدا نے مجھے تائید دی میں نے یہی چاہا کہ ان تمام گالیوں کو جو میرے نبی مطاع کو اور مجھے دی گئیں نظر انداز کر کے نرمی سے جواب لکھوں اور پھر یہ کاروبار خدا تعالیٰ کے سپر د کر دوں۔" نسیم دعوت از روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 364 ) نیز اس کتاب میں اسلام کی خوبیاں، دیگر مذاہب عالم پر کھول کھول کر بیان فرما ئیں اور یہ کتاب آریہ سماج کے جلسہ کے رو ز طبع ہو کر شائع ہو گئی۔جب یہ کتاب پنڈت رام بھیجدت صاحب پریذیڈنٹ آریہ پرتی ندھی سبھا پنجاب کے پاس آریہ سماج کے جلسہ قادیان میں پہنچی تو انہوں نے اپنی آخری تقریر میں حضور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ :۔" اگر وہ مجھ سے اس بارے میں گفتگو کرتے تو جو کچھ نیوگ کرانے کے فائدے ہیں سب ان کے پاس بیان سناتن دھرم روحانی از خزائن جلد 19 صفحه 467) حضرت اقدس کو جب ایک ذمہ دار آریہ سماجی لیڈر کی نیوگ جیسے مسئلہ کے بارے میں یہ رائے پہنچی تو حضور نے " سناتن دھرم " کے نام سے 8 مارچ 1903ء کو ایک دوسرا مختصر رسالہ شائع فرمایا جسے "نسیم دعوت کا تقمہ کہنا چاہئے۔حضور نے "سناتن دھرم " میں نیوگ کی بناء پر آریہ سماج کی خوب قلعی کھولی اور اس کے مقابل پر اسلام کی تعلیم کرتا۔" بیان فرمائی۔