ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 49 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 49

49 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے زندہ نبی پر مضمون لکھنے پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ بشپ صاحب کے گزشتہ لیکچر کا پورا پورا تعاقب کرتے ہوئے 25 مئی 1900ء کو ہی ایک دوسرا اشتہار دیا کہ بشپ صاحب کا یہ کہنا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے مقابل پر مسلمان اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معصوم ہونا ثابت کر کے دکھلائیں۔یہ ایک عمدہ ارادہ ہے مگر بشپ صاحب کے اس طریق بحث سے کوئی عمدہ نتیجہ پیدا نہیں ہو گا کہ پبلک کو یہ دکھایا جائے کہ فلاں نبی نے کوئی گناہ نہیں کیا کیونکہ مذاہب کا گناہوں کی تعیین پر اتفاق نہیں ہے۔بعض فرقے شراب نوشی کو سخت گناہ قرار دیتے ہیں مگر بعض کے عقیدہ کے موافق اس میں روٹی بھگو کر نہ کھائی جائے تو دینداری کی سند نہیں حاصل ہو سکتی۔بنابریں حضور نے انہیں توجہ دلائی کہ اگر وہ مرد میدان بن کر تحقیق حق کے شائق ہیں تو وہ " معصوم نبی" کا موضوع اختیار کرنے کی بجائے اس بارے میں بحث کر لیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا علمی اور عملی اور اخلاقی اور تقدسی اور برکاتی اور تاثیراتی اور ایمانی اور عرفانی اور افاضہ خیر اور طریق معاشرت وغیرہ وجوہ فضائل میں باہم مقابلہ اور موازنہ کیا جائے یعنی یہ دکھلایا جائے کہ ان تمام امور میں کس کی فضیلت اور فوقیت ثابت ہوتی ہے۔پس اس قسم کی صفات فاضلہ میں مقابلہ ہونا چاہیے نہ صرف ترک شہر میں جس کا نام بشپ صاحب معصومیت رکھتے ہیں۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه 379) بشپ لیفر ائے (جو دو دفعہ اسلام کے مقابلہ میں صریح شکست اٹھا چکے تھے ) با وجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو، آپ کے بعض دوستوں اور دوسرے مسلمانوں کے انگیخت کرنے کے وہ میدان میں نہ آئے اور وہ لیکچر کے بعد لاہور سے شملہ بھاگ گئے اور میدان مناظرہ میں آنے سے انکار کر دیا اور کہا میرا اصل کام عیسائی کلیسیا کی اندرونی اصلاح اور اس کو مضبوط کرنا ہے۔یہ اصل کام چھوڑ کر میں مجوزہ مباحثہ میں حصہ نہیں لے سکتا۔انڈین ڈیلی ٹیلی گراف کے علاوہ کئی ایک ملکی اخبارات نے احمدیوں کی اس فتح کا ذکر کیا اور لکھا کہ اس تمام بحث سے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی شان مقام کا ہمیں علم ہوا ہے۔انڈین سپیکٹیٹر نے بھی بشپ کے گریز پر تبصرہ کیا۔تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 93-95) عصمت انبیاء کے موضوع پر سلسلہ مضامین حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیت کے مایہ ناز علم کلام کی فروما ئیگی کو انتہا تک پہنچانے کے لئے رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں عصمت انبیاء کے موضوع پر کئی قسطوں میں ایک زبر دست مضمون لکھا جس نے بس دن ہی چڑھا دیا اور دیگر انبیاء کے مقابل ہر جہت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کی افضلیت اور برتری بالکل نمایاں ہوگئی۔ریویو آف ریلیجنز جلد 1 نمبر 5- مئی 1902ء)