ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 48 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 48

48 بشپ صاحب نے اپنی ناکامی کی خفت مٹانے کے لئے اشتہار دیا کہ وہ 25 مئی کو " زندہ رسول "پر پھر لیکچر دیں گے۔اس اشتہار سے مسلمانوں میں بڑا جوش پھیل گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب اس کی خبر ہوئی۔آپ بیماری کی وجہ سے نڈھال تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و جلال کے لئے آپ کو خدا تعالیٰ نے جو دینی غیرت بخشی تھی اس نے اسلام و عیسائیت کی اس جنگ میں حصہ لینے کے لئے آپ کے اندرز بر دست جوش پیدا کر دیا اور آپ نے اسی وقت قلم پکڑ لیا اور زندہ رسول کے متعلق ایک لاجواب مضمون لکھا جس میں آپ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کا نا قابل تردید دلائل سے ثبوت دینے کے بعد بتایا کہ :۔میں تمام لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ اب آسمان کے نیچے اعلیٰ اور اکمل طور پر زندہ رسول صرف ایک ہے یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔اسی ثبوت کے لئے خدا نے مجھے مسیح کر کے بھیجا ہے جس کو شک ہو وہ آرام اور آہستگی سے مجھ سے یہ اعلیٰ زندگی ثابت کرالے۔اگر میں نہ آیا ہوتا تو کچھ عذر بھی تھا مگر اب کسی کے لئے عذر کی جگہ نہیں کیوں کہ خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ تا میں اس بات کا ثبوت دوں کہ زندہ کتاب قرآن ہے اور زندہ دین اسلام ہے اور زندہ رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔دیکھو میں زمین اور آسمان کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ یہ باتیں سچ ہیں اور خدا وہی ایک خدا ہے جو کلمہ لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ میں پیش کیا گیا اور زندہ رسول وہی ایک رسول ہے جس کے قدم پر نئے سرے سے دنیا زندہ ہو رہی ہے۔نشان ظاہر ہو رہے ہیں۔برکات ظہور میں آرہے ہیں۔غیب کے چشمے کھل رہے ہیں۔پس مبارک وہ جو اپنے تئیں تاریکی سے نکال لے" یہ مضمون جو صرف ڈیڑھ دو گھنٹہ میں روح القدس کی خاص تائید سے لکھا گیا تھا آپ کی ہدایت کے تحت راتوں رات چھاپ دیا گیا۔حضرت اقدس خود لائین لے کر بورڈنگ میں تشریف لائے اور طلباء کو اس کی کا پیاں تہہ کر نے کے لئے اٹھایا چنانچہ انہوں نے ساری رات جاگ کر نہایت خلوص سے یہ دینی خدمت سرانجام دی۔مفتی محمد صادق صاحب چار بجے صبح اشتہار لے کر بٹالہ روانہ ہوئے اور عین وقت پر لاہور جلسہ میں پہنچ گئے۔اشتہار کے مطابق بشپ لیفرائے نے "زندہ رسول پر تقریر کی۔اس کے بعد سوالات کا موقع دیا جس پر حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے حضرت اقدس علیہ السلام کا مطبوعہ مضمون نہایت پر شوکت انداز میں پڑھ کر سنایا۔اس مضمون کی ایک بھاری خصوصیت یہ تھی کہ اگر چہ یہ ایک دن پہلے لکھا گیا تھا مگر اس میں بشپ صاحب کی تقریر کا مسکت جواب موجود تھا اور لوگ حیران تھے کہ بشپ صاحب کی تقریر کے خاتمہ پر اتناز بر دست مضمون آنا فانا چھپ کر شائع کیسے ہو گیا ؟ مضمون کا پڑھنا ہی تھا کہ لاہور ایک بار پھر اسلام کی فتح کے نعروں سے گونج اٹھا اور بشپ صاحب کو جو گزشتہ داغ مٹانے کے خیال سے آئے تھے ایسی زبر دست شکست ہوئی کہ چہرے سے ہوائیاں اڑنے لگیں اور انہوں نے صرف یہ کہ کر چپ سادھ لی کہ " معلوم ہوتا ہے کہ تم مرزائی ہو ہم تم سے گفتگو نہیں کرتے ہمارے مخاطب عام مسلمان ہیں۔" اس وقت تین ہزار کے قریب مجمع تھا۔مسلمانوں نے جو ایک کثیر تعداد میں موجود تھے بالا تفاق اقرار کیا کہ آج اسلام کی عزت انہی نے رکھ دکھائی ہے۔( الحکم 14 مئی 1908ء) ( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 388)