ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 47
47 معصوم نبی اور زندہ رسول پر لیکچرز کے مقابل پر حضرت مسیح موعود کا حضرت نبی پاک کو زندہ رسول، قرآن کو زندہ کتاب اور اسلام کو زندہ دین ثابت کرنا 1899 ء میں لارڈ کرزن ہند دستان کے وائسرائے بنا کر بھیجے گئے اور ساتھ ہی پنجاب کے عیسائی نظام میں یہ تبدیلی عمل میں لائی گئی کہ لارڈ کرزن کے چہیتے اور دلی کے مشہور پُر جوش مسیحی پادری جارج الفریڈ لیفر ائے کو لاہور کا بشپ بنا دیا گیا۔یہ صاحب اپنے مذہب کی تبلیغ میں جارحانہ پالیسی کے قائل اور عبرانی ،فارسی اور اردو تینوں زبانوں کے فاضل تھے اور عیسائی حلقوں میں خاص عظمت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔دلی کے مشہور نابینا مولوی احمد مسیح انہیں کی کوششوں سے عیسائی ہوئے اور پادری و سیحی کہلائے۔مباحثات کا شوق انہیں پہلے ہی جنون کی حد تک پہنچا ہوا تھا اس لئے انہوں نے بشپ بنتے ہی اپنے انگریز بھائیوں پر یہ بات واضح کی کہ خداوند یسوع نے ہندوستان کو بطور امانت سپرد کیا ہے اس لئے ہمیں تندہی سے تبلیغ کرنی چاہئے نیز بڑے وسیع پیمانہ پر عیسائیت کی سرگرمیوں کا آغاز کرتے ہوئے لیکچروں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا۔اس پروگرام کے تحت 18 مئی 1900ء کو انہوں نے " معصوم نبی" کے موضوع پر ایک تقریر کی جس میں انہوں نے یہ ثابت کرنا چاہا کہ حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے متعلق قرآن مجید میں ذنب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ گناہ گار تھے آخر میں انہوں نے مسلمانوں کو چیلنج دیا کہ اگر انہیں کوئی اعتراض ہے تو میدان میں آئیں سوال کریں۔اس مجمع میں حضرت مسیح موعود کے مشہور مرید حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھی موجود تھے۔باقی مسلمان تولیفرائے کے دلائل سن کر دہشت زدہ ہو گئے وہ بولنے کی جرات کیسے کرتے مگر مفتی صاحب جو کا سر صلیب کے غلام تھے جوش غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھڑے ہو گئے اور تقریر کے ایک ایک اعتراض کا اس خوبی سے جواب دیا کہ ان کے سبھی دعاوی کی دھجیاں بکھر گئیں مثلاً انہوں نے کہا کہ مسیح کی عصمت پر لو قایا مرقس کے حوالے دینا کوئی سودمند بات نہیں ہوسکتی۔بہتر یہ ہے کہ خود مسیح کے اپنے منہ کے الفاظ دیکھے جائیں کہ وہ اپنی طہارت اور پاکیزگی کی نسبت کیا کہتے ہیں۔چنانچہ انجیل متی باب 19 آیت 17 میں لکھا ہے کہ اس نے کہا " تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے نیک تو کوئی نہیں مگر ایک خدا۔"پس جو نیک نہیں وہ معصوم کیسے ٹھہر سکتا ہے۔مفتی صاحب نے زبر دست دلائل سے ثابت کیا کہ ذنب، خطا، جرم اور جناح سب الفاظ کا ترجمہ گناہ کیا جاتا ہے حالانکہ یہ محض غلط ہے۔نیز بتایا کہ قرآن کریم کے نزدیک ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ نبی ہیں جن کی عصمت پر خدا نے صاف لفظوں میں زور دیا ہے۔اس تقریر سے بشپ صاحب مبہوت ہو کر رہ گئے اور مسلمان اسلام کی اس زبر دست فتح پر بہت خوش ہوئے اور کئی دن تک اس کا عام چرچا رہا کہ مرزائی جیت گئے۔(احکام 31 مئی 1900 ء )