ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page vi
vi یہی وجہ تھی کہ آپ نے کمال غیرت و جرات سے اپنے آقا ومطاع پر ہونے والے ہر حملہ کا اپنی کتب میں جواب دیا اور یہ وہ قلمی جہاد تھا جس کیلئے آپ وقف تھے۔آپ نے اسلام اور بانی اسلام کا دفاع بھی کیا اور ان کی عظمت و شوکت کو دنیا میں قائم کر دکھایا۔امہات المومنین جیسی مخش تصنیف ہو یا رنگیلا رسول جیسی بد نام زمانہ کتاب ہستیارتھ پرکاش ہو یا سلمان رشدی کی رسوائے زمانہ کتاب Satanic verses یا دور حاضر خلافت خامسہ میں ڈنمارک سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں توہین آمیز کارٹونز کی اشاعت، جرمنی میں عیسائی پوپ کا اسلام اور بانی اسلام کے خلاف لیکچر ہو یا امریکہ کے نکولا بسلے کی مخالف اسلام بیہودہ فلم۔آپ اور آپ کے خلفاء نے ہر قدم پر ناموس رسالت کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا اور رسول اللہ کی ذات پر ہونے والے اعتراض کا رد عمل علمی و عملی و نقلی لحاظ سے کر کے دکھایا اور ہمیشہ اپنی جماعت کو ایسے مواقع پر کسی اور احتجاج کی بجائے اسی شاندار حسین اور مؤثر رد عمل کی طرف توجہ دلائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی دنیا میں اشاعت بھی کریں اور ان پاک نمونوں کو عملی طور پر بھی زندہ کر کے دکھا ئیں اور کثرت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر درود بھیج کر ایسے حملوں کا مداوا کریں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ اسی اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کار بند ہے اور رہے گی۔زیر نظر کتاب عمر بڑی محنت سے ناموس رسالت پر حملوں کے دفاع کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کے ارشادات و تحریرات کو یکجائی صورت میں مرتب کر دیا ہے۔جو وقت کی عین ضرورت تھی۔الحمد للہ کہ اس کتاب کی اشاعت کا سہرا کے سر ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی کاوش کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو نافع الناس بنائے۔آمین نے