ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 46
46 فرقوں کے عقائد اور ان کے حسن و قبح کا ذکر نہ کرے۔" ( الحکم 15 اکتوبر 1898ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 20) " دیسی پادریوں کے نہایت دلآزار حملے اور توہین آمیز کتابیں در حقیقت ایسی تھیں کہ اگر آزادی کے ساتھ ان کی مدافعت نہ کی جاتی اور ان کے سخت کلمات کے عوض میں کسی قدر مہذبانہ بختی استعمال میں نہ آتی تو بعض جاہل جوجلد تر بد گمانی کی طرف جھک جاتے ہیں شاید یہ خیال کرتے کہ گورنمنٹ کو پادریوں کی خاص رعایت ہے مگر اب ایسا خیال کوئی نہیں کر سکتا اور بالمقابل کتابوں کے شائع ہونے سے وہ اشتعال جو پادریوں کی سخت تحریروں سے پیدا ہونا ممکن تھا اندر ہی اندر دب گیا اور لوگوں کو معلوم ہو گیا ہے کہ ہماری گورنمنٹ عالیہ نے ہر ایک مذہب کے پیرو کو اپنے مذہب کی تائید میں عام آزادی دی ہے جس سے ہر ایک فرقہ برابر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔حال میں ہی جو اسی 1897ء میں پادری صاحبوں کی طرف سے مشن پریس گوجرانوالہ میں اسلام کے رد میں ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس کا نام یہ رکھا ہے امہات المومنین یعنی دربار مصطفائی کے اسرار "وہ ایک تازہ زخم مسلمانوں کے دلوں کو پہنچانے والی ہے اور یہ نام ہی کافی ثبوت اس تازہ زخم کا ہے اور اس میں اشتعال دہی کے طور پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی ہیں اور نہایت دلآ زار کلے استعمال کئے ہیں۔پھر دل دُکھانے کے لئے ہزار کا پی اس کتاب کی مسلمانوں کی طرف مفت روانہ کی گئی ہے۔چنانچہ آج ہی کی تاریخ جو 15 فروری 1898 ء ہے ایک جلد مجھ کو بھی بھیج دی ہے حالانکہ میں نے طلب نہیں کی اور اس کتاب میں یعنی صفحہ 5 میں لکھ بھی دیا ہے کہ اس کتاب کی ایک ہزار جلدیں مفت بصیغہ ڈاک ایک ہزار مسلمانوں کی نذر کرتے ہیں اب ظاہر ہے کہ جب ایک ہزار مسلمان کو خواہ نخواہ یہ کتاب بھیج کر ان کا دل دُکھایا گیا تو کس قدر نقص امن کا اندیشہ ہو سکتا ہے اور یہ پہلی تحریر ہی نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی پادری صاحبوں نے بار بار بہت سی فتنہ انگیز تحریریں شائع کی ہیں اور بے خبر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے وہ کتا میں اکثر مسلمانوں میں تقسیم کی ہیں جن کا ایک ذخیرہ میرے پاس بھی موجود ہے۔میرے نزدیک ایک ایسی فتنہ انگیز تحریروں کے روکنے کے لئے بہتر طریق یہ ہے کہ گورنمنٹ عالیہ یا تو یہ تدبیر کرے کہ ہر ایک فریق مخالف کو ہدایت فرما دے کہ وہ اپنے حملہ کے وقت تہذیب اور نرمی سے باہر نہ جاوے اور صرف ان کتابوں کی بناء پر اعتراض کرے جو فریق مقابل کی مسلم اور مقبول ہوں اور اعتراض بھی وہ کرے جو اپنی مسلم کتابوں پر وارد نہ ہو سکے اور اگر گورنمنٹ عالیہ یہ نہیں کر سکتی تو یہ تدبیر عمل میں لا دے کہ یہ قانون صادر فرمادے کہ ہر ایک فریق صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کرے اور دوسرے فریق پر ہرگز حملہ نہ کرے۔میں دل سے چاہتا ہوں کہ ایسا ہو اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ قوموں میں صلح کاری پھیلانے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی تدبیر نہیں کہ کچھ عرصہ کے لئے مخالفانہ حملے روک دیئے جائیں۔ہر ایک شخص صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اور دوسرے کا ذکر زبان پر نہ لاوے اگر گورنمنٹ عالیہ میری اس درخواست کو منظور کرے تو میں یقینا کہتا ہوں کہ چند سالوں میں تمام قوموں کے کینے دور ہو جائیں گے اور بجائے بغض محبت پیدا ہو جائے گی۔ور نہ کسی دوسرے قانون سے اگر چہ مجرموں سے تمام جیل خانے بھر جائیں مگر اس قانون کا ان کی اخلاقی حالت پر نہایت ہی کم اثر پڑے گا۔مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 194-195)