ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 45
45 بخش جواب دیا جائے اور آپ نے مخالفین اسلام کے جواب میں دنیا کی مختلف زبانوں میں لٹریچر شائع کرنے کی ایک جامع سکیم مسلمانوں کے سامنے رکھی اور انہیں بتایا کہ اس وقت تک کروڑوں کتابیں عیسائیوں کی طرف سے شائع ہو چکی ہیں۔میموریل اس کا کوئی علاج نہیں۔اس وقت پادریوں کی زہریلی تحریرات اور ملحدانہ فلسفہ نے اسلام پر یورش کر رکھی ہے اور امہات المومنین کی طرز کی کتابوں کا سیلاب امڈ آیا ہے۔پس ایسی صورت میں دفاع کی صرف ایک ہی قابل عمل صورت ہے کہ اسلامی تعلیم کی عمدگی ایسے دلکش انداز میں ثابت کی جائے کہ پادریوں کی ساٹھ سالہ دجالانہ کارروائیاں خاک میں مل جائیں اور اسلام کا منور چہرہ آفتاب کی طرح سامنے آجائے۔یہ جامع سکیم پیش کرتے ہوئے حضور نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ "اے بزرگو! یہ وہ زمانہ ہے جس میں وہی دین اور دینوں پر غالب ہوگا جو اپنی ذاتی قوت سے اپنی عظمت دکھاوے۔پس جیسا کہ ہمارے مخالفوں نے ہزاروں اعتراض کر کے یہ ارادہ کیا ہے کہ اسلام کے نورانی اور خوبصورت چہرہ کو بدشکل اور مکروہ ظاہر کریں ایسا ہی ہماری کوششیں اسی کام کے لئے ہونی چاہئیں کہ اس پاک دین کی کمال درجہ کی خوبصورتی اور بے عیب اور معصوم ہونا بپا یہ ثبوت پہنچا دیں۔۔۔اور انکو دکھلا دیں کہ اسلام کا چہرہ کیسا نورانی ، کیسا مبارک اور کیسا ہر ایک داغ سے پاک ہے۔ہمارا کام جو ہمیں ضرور ہی کرنا چاہئے وہ یہی ہے کہ یہ دجل اور افتراء جس کے ذریعہ سے قوموں کو اسلام کی نسبت بدظن کیا گیا ہے اس کو جڑ سے اکھاڑ دیں۔یہ کام سب کاموں پر مقدم ہے جس میں اگر ہم غفلت کریں تو خدا اور رسول کے گناہ گار ہوں گے۔سچی ہمدردی اسلام کی اور سچی محبت رسول کریم کی اس میں ہے کہ ہم ان افتراؤں سے اپنے مولیٰ و سید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پاک ثابت کر کے دکھلائیں۔خدا تعالیٰ نے ہمارے دل کو اسی امر کے لئے کھولا ہے کہ اس وقت اور اس زمانہ میں اسلام کی حقیقی تائید اسی میں ہے کہ ہم اس تختم بدنامی کو جو بویا گیا ہے اور ان اعتراضات کو جو یورپ اور ایشیا میں پھیلائے گئے ہیں جڑ سے اکھاڑ کر اسلامی خوبیوں کے انوار اور برکات اس قدر غیر قوموں کو دکھلاویں کہ ان کی آنکھیں خیرہ ہو جائیں۔" البلاغ از روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 382-383) " امہات المومنین " کی اشاعت پر مسلمانوں میں زبردست ہیجان دیکھ کر عیسائی اخبار "نورافشاں" (لدھیانہ) نے نہایت درجہ عاقبت نا اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے اور زیادہ اشتعال پھیلانا شروع کر دیا جس سے ملکی فضا اور زیادہ مکدر ہوگئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فتنہ وفساد کے شعلوں کو پھیلتے دیکھا تو اکتوبر 1898ء میں وائسرائے ہند وکٹر الیگزنڈر بروس ایجن کے نام ایک میموریل بھیجا جس میں 1895ء کے مذہبی مباحثات سے متعلق میموریل کی تجاویز کا اعادہ کرتے ہوئے مزید یہ تجویز بھی پیش فرمائی کہ " گورنمنٹ عالیہ دس برس تک جس حد تک مناسب سمجھے اس طریق بحث کو قطعاً مسدود فرما دے کہ کوئی فریق دوسرے کے عقیدے اور مذہب پر حملہ کرے یا کسی قسم کی نکتہ چینی سے فریق مخالف کو ایذا پہنچاوے بلکہ ہر ایک فریق اپنی کل تحریروں اور تقریروں کو اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے تک محدود رکھے اور دوسرے فرقوں اور دوسرے