ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 44 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 44

44 دینے سے عاجز ہو۔پس کتاب " امہات المومنین" کے خلاف حکومت اپنے ملکی قوانین کے لحاظ سے از خود جو چاہے قدم اٹھائے مگر ہمارا فرض صرف یہ ہونا چاہئے کہ ہم اس کے اعتراضات کا جو در حقیقت نہایت نادانی یا دھوکہ دہی کی غرض سے کئے گئے ہیں خوبی اور شائستگی کے ساتھ جواب دیں۔اس طرح اس اشتعال دلانے والی کتاب کی قبولیت خود بخو دگر جائے گی۔ایک اور موقع پر فرمایا :۔" چونکہ یہ میموریل اسلام اور اہل اسلام کی حمایت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی عزت اور قرآن کریم کی عظمت قائم کرنے اور اسلام کی پاکیزہ اور اصفی شکل دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے، اس لئے اس کو آپ صاحبان کے سامنے پڑھے جانے سے صرف یہ غرض ہے کہ تا آپ لوگوں سے بطور مشورہ دریافت کیا جائے کہ آیا مصلحت وقت یہ ہے کہ کتاب کا جواب لکھا جائے یا میموریل بھیج کر گورنمنٹ سے استدعا کی جائے کہ وہ ایسے مصنفین کو سرزنش کرے اور اشاعت بند کر دے۔پس آپ لوگوں میں سے جو کوئی اس پر نکتہ چینی کرنا چاہے، تو وہ نہایت آزادی اور شوق سے کر سکتا ہے۔" مجمع میں سے ) ایک شخص بولا کہ اگر کتاب کی اشاعت بند نہ ہوئی تو ہمیشہ تک طبع ہوتی رہے گی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔اگر ہم واقعی طور پر کتاب کی اشاعت بند نہ کریں جو اس کے رد کرنے کی صورت میں ہوسکتی ہے ، تو گورنمنٹ سے ایک بار نہیں ہزار دفعہ اس قسم کی مدد لے کر اس کی اشاعت بند کی جائے ، وہ رک نہیں سکتی۔اگر اس تھوڑے عرصہ کے لئے وہ برائے نام بند بھی ہو جائے ، تو پھر بھی بہت سی کمز ور طبیعت کے انسانوں اور بعض آنے والی نسلوں کے لئے یہ تجویز زہر قاتل ہوگی۔کیونکہ جب ان کو یہ معلوم ہوگا کہ فلاں کتاب کا جواب جب مسلمانوں سے نہ ہوسکا تو اس کے لئے گورنمنٹ سے بند کرانے کی کوشش کی۔اس سے ایک قسم کی بدظنی ہمارے مذہب کی نسبت پیدا ہوگی۔پس میرا یہ اصول رہا ہے کہ ایسی کتاب کا جواب دیا جاوے اور گورنمنٹ کی ایک سچی امداد یعنی آزادی سے فائدہ اٹھایا جائے اور ایسا شافی جواب دیا جائے کہ خود ان کو اس کی اشاعت کرتے ہوئے ندامت محسوس ہو۔دیکھو جیسے ہمارے مقدمہ ڈاکٹر کلارک میں ان کو جب معلوم ہو گیا کہ مقدمہ میں جان نہیں رہی اور مصنوعی جادو کا پتلا ٹوٹ گیا۔تو انہوں نے آتھم کی بیوی اور داماد جیسے گواہ بھی پیش نہ کئے۔پس میری رائے یہی ہے اور میرے دل کا فتویٰ یہی ہے کہ اس کا دندان شکن جواب نہایت نرمی اور ملاطفت سے دیا جائے۔پھر خدا چاہے گا تو ان کو خود ہی جرات نہ ہو گی۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 158-159 ) اس میموریل کے علاوہ حضور نے دوسرا کام یہ کیا کہ انہی دنوں ایک کتاب "البلاغ" تصنیف فرمائی جس میں حضور نے دیگر مسلمان فرقوں کے طریق کو غیر مفید قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ مناسب یہی ہے کہ تمام اعتراضات کا تسلی