ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 43 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 43

43 میں دعوت اسلام بھیجی ہے اسی طرح روس، فرانس اور دوسرے ممالک کے بادشاہوں کو اسلام کا پیغام دیا ہے، آپ کی تمام تر سعی جد و جہد یہ ہے کہ تثلیث وصلیب کا عقیدہ جو سراسر کفر والحاد ہے۔صفحہ ہستی سے مٹ جائے اور اس کی بجائے اسلامی توحید قائم ہو جائے۔" 2012ء کولندن یو کے میں ہمارے موجودہ امام ہمام حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفتہ اسیح الخامس ایده ( تاریخ احمدیت جلد 1 صفحہ 475-477) اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور ارشاد پر کتاب تحفہ قیصریہ دوبارہ دیدہ زیب چھپوا کر موجودہ ملکہ الزبتھ کی ساٹھ سالہ جو بلی پر ملکہ کو پیش کی گئی اور یوں اسلام کا پیغام ایک بار پھر ملکہ اور خاندان شاہی کو ملا۔تصنیف نجم الہدی اور اسلامی تعلیم کا اظہار حضرت مسیح موعود نے 1898ء نجم الہدی تحریر فرمائی اس میں بھی آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محاسن و کمالات کا حسین نقشہ کھینچا ہے اور اپنی قوم کے سامنے دجال کے عالمگیر فتنہ کا نظارہ پیش کرتے ہوئے ستاروں کی طرح چمکتے ہوئے دلائل و براہین اور نشانوں سے اپنے دعوئی مسیحیت کی سچائی ثابت کی ہے۔کتاب " اُمہات المومنین " کی اشاعت اور "البلاغ" میں جواب ایک بد زبان کشمیری مرتد احمد شاہ شائق عیسائی نے جو کسی زمانہ میں لداخ کا میڈیکل افسر اور جگر اؤں ضلع لدھیانہ کا مشنری بھی رہ چکا تھا۔انگلینڈ میں " امہات المومنین " کے نام سے ایک گندی کتاب لکھی اور اوائل 1898ء میں بڑے وسیع پیمانے پر مفت تقسیم کی۔اس کتاب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضور کی ازواج مطہرات رضی الله عنهن کو اتنی غلیظ گالیاں دیں کہ مسلمانان ہند کے جگر چھلنی اور دل پارہ پارہ ہو گئے اور ہر طرف اس کے خلاف بہت شور اٹھا اور اخباروں میں زبر دست احتجاج کیا گیا۔ہندوستان کے شرق و غرب میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔مختلف مسلم انجمنوں نے اس اشتعال انگیز کتاب کا جواب دینے کی بجائے گورنمنٹ کی خدمت میں میموریل پر میموریل بھیجنے شروع کر دیئے کہ اس کتاب کو ضبط کیا جائے اور اس کی اشاعت بند کی جائے۔کتاب ہزاروں کی تعداد میں مفت تقسیم ہو کر اپناز ہر پوری شدت سے پھیلا چکی تھی اور اس کی ضبطی کا سوال اٹھانا محض اپنی شکست کا اعتراف کرنا تھا۔یہ نازک صورتحال دیکھ کر سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسلمانوں کی راہنمائی کے لئے فورا میدان میں آئے اور حضور نے اپنی جماعت اور روشن خیال مسلمانوں کی طرف سے 4 مئی 1898ء کو نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر صاحب پنجاب کو ایک مفصل میموریل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف پادریوں کی دریدہ دہنی بخش گوئی اور بدزبانی کی طرف توجہ دلانے کے لئے بھجوایا۔جس میں لکھا کہ ہم اسلامی انجمنوں کے میموریل سے قطعاً اتفاق نہیں کرتے۔اسلام ایک مقدس اور معقول مذہب ہے۔یہ کوئی عاجز اور فروماندہ دین نہیں کہ جو حملہ کرنے والوں کا جواب