ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 42
42 تحفہ قیصریہ کے ذریعہ ملکہ کو اسلام کا پیغام اسلام کے بطل جلیل حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا مقصد اشاعت توحید الہی اور تبلیغ پیغام خداوندی تھا۔بالخصوص اسلام کے مخالفین کو آپ نے مسلسل اسلامی تعلیمات اپنانے کی دعوت کا سلسلہ جاری رکھا اور اس حوالہ سے آپ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔چنانچہ 1897ء میں ملکہ وکٹوریہ کی 60 سالہ جو بلی کے موقع پر آپ نے ملکہ کو مخاطب ہو کر تحفہ قیصریہ کے نام سے ایک پیغام تحریر فرمایا۔جس میں مبارکباد کے علاوہ نہایت لطیف پیرایہ اور حکیمانہ انداز میں اپنے مرشد و آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی تعلیم اور اصول بیان فرمائے جو امن عالم اور اخوت عالمگیر کی بنیاد بن سکتے ہیں۔اسلامی تعلیم کا خلاصہ بیان کرنے کے بعد ملکہ معظمہ کو لندن میں جلسہ مذاہب منعقد کرنے کی تجویز دے کر لکھا کہ اس سے انگلستان کے باشندوں کو اسلام کے متعلق صحیح معلومات حاصل ہوں گی۔آپ نے اسلام کے حق میں نشان نمائی کی بھی پیشکش فرمائی۔حضور نے تحفہ قیصریہ کے چند نسخے ملکہ وکٹوریہ، وائسرائے ہند اور لیفٹینٹ گورنر پنجاب کو بھی ارسال کئے بلکہ ان کے لیے بایں الفاظ دعا کی۔"اے قادر توانا ہماری محسنہ قیصرہ ہند کو مخلوق پرستی کی تاریکی سے چھڑا کر لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ (جلسه احباب از روحانی خزائن جلد 12 صفحه 290) جب ملکہ کی طرف سے تحفہ قیصریہ میں درج پیغام کا کوئی جواب موصول نہ ہوا تو دوسال کے بعد آپ نے ستارہ قیصریہ کے نام سے دوبارہ اسلام کا پیغام ملکہ کو دیا اور 27 ستمبر 1899ء کو گورنمنٹ انگریزی پر اتمام حجت کرنے کے لئے ایک میموریل شائع فرمایا اور جلسہ مذاہب منعقد کرنے کی ایک بار پھر درخواست کی۔پر اس کا خاتمہ کر۔" ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه 361-362) اس سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئینہ کمالات اسلام میں ملکہ وکٹوریہ کو ایک خط کے ذریعہ سے دعوت اسلام دے چکے تھے جس میں آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی خادم ہونے کی حیثیت سے ملکہ وکٹوریہ کو انہی الفاظ میں حق کا پیغام پہنچایا۔جن الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے 628ء کے آخر میں قیصر و کسری کو پہنچایا تھا۔آپ کا تبلیغ اسلام کا یہی وہ مجاہدانہ کارنامہ تھا جسے چاچڑاں شریف سابق ریاست بہاولپور کے ایک صاحب کشف بزرگ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب نے بہت سراہا۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔" حضرت مرزا صاحب اپنے تمام اوقات عبادت الہی، دعا، نماز، تلاوت قرآن اور اسی نوع کے دوسرے مشاغل میں گزارتے ہیں۔دین اسلام کی حمایت کے لئے آپ نے ایسی کمر ہمت باندھی ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کولندن