ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 41
41 ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه 7) ہوتا جا تا ہے۔۔۔میں کبھی اس غم سے فنا ہو جاتا اگر میرا مولیٰ اور میرا قادر توانا مجھے تسلی نہ دیتا کہ آخر تو حید کی فتح ہے۔غیر معبود ہلاک ہوں گے اور جھوٹے خدا اپنی خدائی کے وجود سے منقطع کئے جائیں گے۔مریم کی معبودانہ زندگی پر موت آئے گی اور نیز اس کا بیٹا اب ضرور مرے گا۔کوئی ان کو بچا نہیں سکتا اور وہ تمام خراب استعداد میں بھی مریں گی جو جھوٹے خداؤں کو قبول کر لیتی تھیں۔نئی زمین ہوگی اور نیا آسمان ہو گا۔اب وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا اور یورپ کو سچے خدا کا پتہ لگے گا۔قریب ہے کہ سب ماتیں ہلاک ہوں گی مگر اسلام اور سب حربے ٹوٹ جائیں گے مگر اسلام کا آسمانی حربہ کہ وہ نہ ٹوٹے گا، نہ کند ہو گا جب تک دجالیت کو پاش پاش نہ کر دے۔وہ وقت قریب ہے کہ خدا کی کچی تو حید جس کو بیابانوں کے رہنے والے اور تمام تعلیموں سے غافل بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں ملکوں میں پھیلے گی۔اس دن نہ کوئی مصنوعی کفارہ باقی رہے گا اور نہ کوئی مصنوعی خدا۔اور خدا کا ایک ہی ہاتھ کفر کی سب تدبیروں کو باطل کر دے گا لیکن نہ کسی تلوار سے اور نہ کسی بندوق سے بلکہ مستعد روحوں کو روشنی عطا کرنے سے اور پاک دلوں پر ایک نو را تار نے سے " اس بطل جلیل اور جری اللہ فی حلل الانبیاء کا میدان میں اترنا تھا کہ عیسائیت کی فتح کا بلند و بانگ دعوی کرنے والے جھاگ کی طرح بیٹھنا شروع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے عیسائیت پسپا ہونے لگی۔اسلام کی فتح کا سورج طلوع ہوا اور عیسائی خود معترف ہوئے کہ عیسائیت ہر جگہ ناکام ہو رہی ہے۔چنانچہ ہیگ کے کثیر الاشاعت اخبار Nicnve Mangson Couron نے 20 ستمبر 1958 ء کی اشاعت میں زیر عنوان " مغربی یورپ میں اسلامی مہم کا آغاز " لکھا ہے کہ اسلام کسی ایک خاص قوم یا علاقہ کا مذہب نہیں اور موجودہ عالمی مشکلات کا حل اس میں مضمر ہے۔۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ گیارہ بارہ سال کے عرصہ میں یورپ نے بہت بڑی تعداد میں اسلام کو عملاً قبول نہیں کیا۔مگر یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ اس عرصہ میں جماعت احمدیہ کی کوششوں سے ایک بھاری تعدا د اسلام سے ہمدردی رکھنے والوں کی ضرور پیدا ہوگئی ہے۔جو بہت ہی خوشگوار اورامیدافزا ہے۔" اسی طرح ہالینڈ کے مختلف شہروں کے پانچ اخبارات نے زیر عنوان "اسلامی ہلال یورپ کے افق پر سوالیہ نشان دے کر لکھا کہ۔"یورپ کا نوجوان طبقہ عیسائیت سے کچھ بیزار ہو رہا ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ کسی بھی دوسری چیز کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتا ہے۔دوسری طرف اسلام یورپ میں اتحاد کا علم لئے ہوئے ہے اور یہ نو جوان اُدھر مائل ہورہے ہیں۔اس بہاؤ کو روکنے کے لئے اور اس تبلیغ کے اثرات کو تھامنے کے لئے جس کا سب سے طاقتور انجن جماعت احمدیہ ہے ہمیں ان کی راہ میں ایک مضبوط ستون گاڑ نا ہوگا۔" ( بحوالہ روحانی خزائن جلد 12 تعارف صفحہ 12-13 )