ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 40
40 " اب میں اسلامی ممالک میں عیسائیت کی روز افزوں ترقی کا ذکر کرتا ہوں۔اس ترقی کے نتیجہ میں صلیب کی چه کار آج ایک طرف لبنان پر ضوء انگن ہے تو دوسری طرف فارس کے پہاڑوں کی چوٹیاں اور باسفورس کا پانی اس کی چر کا ر سے جگمگ جگمگ کر رہا ہے۔یہ صورت حال پیش خیمہ ہے اس آنے والے انقلاب کا کہ جب قاہرہ۔دمشق اور طہران کے شہر خداوند یسوع مسیح کے خدام سے آباد نظر آئیں گے۔حتی کہ صلیب کی چمکار صحرائے عرب کے سکوت کو چیرتی ہوئی وہاں بھی پہنچے گی۔اس وقت خداوند یسوع اپنے شاگردوں کے ذریعہ مکہ کے شہر اور خاص کعبہ کے حرم میں داخل ہوگا اور بالآخر وہاں اس حق و صداقت کی منادی کی جائے گی کہ " ابدی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدائے واحد اور یسوع مسیح کو جانیں جسے تو نے بھیجا ہے۔" (بیروز لیکچر ز صفحه 42) اس کے مقابلہ میں اسی سال اسلام کے بطل جلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے "سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب " لکھ کر نہ صرف اسلام کے دفاع میں نگی تلوار بن کر عیسائیت پر ایسی کاری ضربیں لگا ئیں کہ ان کے پاؤں اکھڑنے لگے آپ نے عیسائیوں کے متعلق فرمایا کہ ان کو بے قیدی اور اباحت کا آرام تو ملا ہے۔لیکن روحانی آرام جو خدا کے وصال سے ملتا ہے اس کے بارے میں تو میں خدا کی دُہائی دے کر کہتا ہوں کہ یہ قوم اس سے بالکل بے نصیب ہے ان کی آنکھوں پر پردے اور ان کے دل مردہ اور تاریکی میں پڑے ہوئے ہیں۔یہ لوگ بچے خدا سے بالکل غافل ہیں اور ایک عاجز انسان کو جو ہستی ازلی کے آگے کچھ بھی نہیں ناحق خدا بنا رکھا ہے۔ان میں برکات نہیں، ان میں دل کی روشنی نہیں۔ان کو سچے خدا کی محبت نہیں بلکہ اس بچے خدا کی معرفت بھی نہیں۔ان میں کوئی بھی نہیں ہاں ایک بھی نہیں جس میں ایمان کی نشانیاں ہونی چاہئیں۔مگر کہاں ہے کوئی ایسا عیسائی جس میں یسوع کی بیان کردہ نشانیاں پائی جاتی ہوں؟ پس یا تو انجیل جھوٹی ہے اور یا عیسائی جھوٹے ہیں۔دیکھو قرآن کریم نے جو نشانیاں ایمانداروں کی بیان فرمائیں وہ ہر زمانہ میں پائی گئی ہیں۔قرآن شریف فرما تا ہے کہ ایمان دار کو الہام ملتا ہے۔ایماندارخدا کی آواز سنتا ہے۔ایماندار کی دعائیں سب سے زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ایماندار پر غیب کی خبریں ظاہر کی جاتی ہیں۔ایماندار کے شامل حال آسمانی تائیدیں ہوتی ہیں۔سوجیسا کہ پہلے زمانوں میں یہ نشانیاں پائی جاتی تھیں اب بھی بدستور پائی جاتی ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن خدا کا پاک کلام ہے اور قرآن کے وعدےخدا کے وعدے ہیں۔اُٹھو عیسائیو! اگر کچھ طاقت ہے تو مجھ سے مقابلہ کرو۔اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھے بے شک ذبح کر دو۔ورنہ آپ لوگ خدا کے الزام کے نیچے ہیں اور جہنم کی آگ پر آپ لوگوں کا قدم ہے۔" سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب از روحانی خزائن جلد 12 صفحه 374) اور خدا تعالیٰ سے علم پا کر جنوری 1897 ء کو آپ نے ایک خاص اشتہار کے ذریعہ یہ اعلان کیا۔میں ہر دم اس فکر میں ہوں کہ ہمارا اور نصاریٰ کا کسی طرح فیصلہ ہو جائے۔میرا دل مردہ پرستی کے فتنہ سے خون