ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 39 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 39

39 بزرگ قدروہ رسول ہے جس سے ہم ہمیشہ تازہ بتازہ روشنی پاتے ہیں اور کیا ہی برگزیدہ وہ نبی ہے۔جس کی محبت سے روح القدس ہمارے اندر سکونت کرتی ہے۔" ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 88) حضور نے اس اشتہار میں سکھوں پر اتمام حجت کرتے ہوئے سردار راجندرسنگھ کو اسی آسمانی فیصلہ کی طرف بلایا جو آپ کے جوش ایمان اور منصب ماموریت کا ابتداء ہی سے طرہ امتیاز تھا۔یعنی آپ نے انہیں دعوت دی کہ آپ اگر باوا نانک کو مسلمان نہیں سمجھتے تو ایک مجلس عام میں اس مضمون کی قسم کھاویں کہ درحقیقت باوا نا تک صاحب دین اسلام سے بیزار تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا سمجھتے تھے اور اگر دونوں باتیں خلاف واقعہ ہیں تو اے قادر کرتا ر! مجھے ایک سال تک اس گستاخی کی سزا دے۔حضرت اقدس نے یہ وعدہ فرمایا کہ کسی اخبار میں یہ قسم شائع ہونے کے بعد ہم ان کے لئے پانچ سوروپی جمع کرا دیں گے۔جو ان کے ایک سال تک زندہ رہنے کی صورت میں انہیں فی الفور دے دیا جائے گا۔نیز یقین دلایا کہ اگر کسی انسان کے ہاتھ سے آپ کو تکلیف پہنچے تو وہ ہماری بددعا کا اثر ہر گز نہیں سمجھا جائے گا۔(ماخوذ اشتہار 18 اپریل 1897 ء از مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه 90) لیکن سردار راجندر سنگھ خدا کے شیر کی ایک ہی گرج سے ایسے دم بخود ہوئے کہ زندگی بھر انہوں نے اس طرف رخ کرنے کا نام نہیں لیا۔بطل جلیل کے ذریعہ عیسائیت پر ایک اور کاری ضرب سراج الدین عیسائی کے چارسوالوں کا جواب جیسا کہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں کہ ہندوستان کو فتح کرنے کے لئے عیسائی پادری ولیڈران ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے تھے اور حکومت کی آشیر باد بھی ان کو حاصل رہی۔حتی کہ 1897ء آن پہنچا جب عیسائیت اپنے عروج پر تھی اور عیسائی پادری عیسائیت کے غلبہ کا ذکر بڑے فخریہ انداز میں اپنی تقاریر میں کرنے لگے۔چنانچہ امریکہ کے ڈاکٹر جان ہنری بیروز نے ہندوستان کے دورہ کے دوران عیسائیت کے غلبہ کا ذکر یوں کیا۔آسمانی بادشاہت پورے کرہ ارض پر محیط ہوتی جارہی ہے۔آج دنیا بھر میں اخلاقی اور فوجی طاقت علم و فضل، صنعت و حرفت اور تمام تر تجارت ان اقوام کے ہاتھ میں ہے جو آسمانی ابوت اور انسانی اخوت کی مسیحی تعلیم پر ایمان رکھتے ہوئے یسوع مسیح کو اپنا نجات دہندہ تسلیم کرتی ہیں۔" (بیروز لیکچرز صفحه 19 ) پھر عیسائیت کے عالمی اثرات" کے زیر عنوان اپنے ایک پبلک لیکچر میں اسلامی ممالک کے اندر عیسائیت کی عظیم الشان فتوحات پر فخر کرتے ہوئے ڈاکٹر بیروز نے یہ اعلان کیا۔