ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 38
38 کا ذکر ہوا اور لوگ کہہ رہے تھے کہ یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی تو انہوں نے فرمایا:۔" کون کہتا ہے کہ آتھم زندہ ہے مجھے تو اس کی لاش نظر آ رہی ہے۔" ( تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 508) اور آتھم کی موت کے بعد حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کے سامنے جب کسی نے اعتراض کیا کہ آتھم میعاد کے بعد مرا۔تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام لے کر فرمایا کہ اس بات کی کیا پروا ہے میں جانتا ہوں کہ آنقم انہی کی دعا سے مرا ہے۔" ( تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 509) تصنیف ست بچن کے بعد سکھوں کی آنحضور کے خلاف ہرزہ سرائی اور جری اللہ کا میدان میں اتر نا معاند اسلام پنڈت دیا نند نے اپنی کتاب ستیارتھ پر کاش میں باوا نا تک رحمہ اللہ پر بھی بے جا الزامات لگائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو جری اللہ تھے۔آپ نے اسلام مخالف و دشمن عناصر کے ہر الزام کو تار تار کرنے کے لئے قدم اٹھائے۔آپ نے باوانا تک رحمہ اللہ پر لگائے گئے الزامات کے جواب اور ان کی تردید کے لئے ست بچن تحریر فرمائی۔جس میں آپ نے ثابت فرمایا کہ وہ عقیدہ اور مذہب کے اعتبار اور قول و فعل کے لحاظ سے سچے مسلمان تھے۔انہوں نے ویدوں سے دستبرداری کا اظہار کیا اور اسلامی عقائد کو اختیار کیا۔کلمہ طیبہ کو ہی مدار نجات قرار دیا۔آپ نے چولہ با وانا تک کو بطور ثبوت اس کتاب میں پیش فرمایا۔اس کتاب کی اشاعت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت میں ہندوستان کی تمام بڑی بڑی قو میں متحد تھیں صرف سکھ علیحدہ نظر آتے تھے مگر وہ بھی "ست بچن" کی تصنیف سے بگڑ گئے اور عین اس وقت میدان مقابلہ میں آئے جب پنڈت لیکھرام کے قتل نے ملکی مطلع غبار آلود کر رکھا تھا اور وحشت وجنون کے گھٹا ٹوپ بادل چھا رہے تھے۔چنانچہ ایک صاحب سردار راجندرسنگھ نے "خبط قادیانی " کتاب لکھی جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ حملے کئے اور باوا نانک کے مسلمان ہونے پر غم وغصہ کا اظہار کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوسکھ قوم سے حسن ظن تھا جو اس کتاب سے مجروح ہوا آپ کو ہرگز یہ خیال نہیں تھا کہ سکھ قوم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق بے با کی کرتے ہیں۔چنانچہ آپ نے 18 اپریل 1897ء کو اس کے جواب میں مفصل اشتہار لکھا اور فرمایا:۔" کوئی بُر امانے یا بھلا۔مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ان تمام مذہبوں میں سے بیچ پر قائم وہی مذہب ہے جس پر خد کا ہاتھ ہے اور وہی مقبول دین ہے جس کی قبولیت کے نور ہر ایک زمانہ میں ظاہر ہوتے ہیں یہ نہیں کہ پیچھے رہ گئے ہیں۔سو دیکھو! میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ روشن مذہب اسلام ہے جس کے ساتھ خدا کی تائیدیں ہر وقت شامل ہیں۔کیا ہی