ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 37 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 37

ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔37 " ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔انہوں نے ناحق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔۔۔اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔" اور فرمایا:۔( ضمیمه انجام آنقم از روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 292-293 حاشیہ ) "اگر پادری اب بھی پالیسی بدل دیں اور عہد کریں کہ آئندہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہیں نکالیں گے تو ہم بھی عہد کریں گے کہ آئندہ نرم الفاظ کے ساتھ ان سے گفتگو ہوگی ورنہ جو کچھ کہیں گے اس کا جواب سنیں گے۔" (ضمیمه انجام آنقم از روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 292 حاشیه در حاشیه ) پھر فرمایا:۔"ہماری رائے اس لیسوع کی نسبت ہے جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور پہلے نبیوں کو چور اور بٹمار کہا اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بجز اس کے کچھ نہیں کہا کہ میرے بعد جھوٹے نبی آئیں گے۔ایسے یسوع کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں ضمیمہ انجام آنقم از روحانی خزائن جلد 11 صفحه 13) او پر درج ہو چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ کتاب "انجام آتھم "عیسائیوں کے بہت بڑے مناظر اور پادری عبد اللہ آتھم کے لئے لکھی تھی۔یہ شخص بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم وگندے الفاظ سے یاد کیا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس خبیث طبع انسان کو 9 ستمبر 1894ء کو چیلنج دیا کہ اگر اس عرصہ میں اس پر اسلام کی ہیبت طاری نہ ہوئی اور وہ تثلیث کے عقیدہ سے ذرہ بھر بھی متزلزل نہ ہوا اور اس نے حق کی طرف رجوع نہ کیا تو وہ قسم اٹھا دے اسے ایک ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔پھر حضور نے اسی انعام کو دو چند، تین چند اور 4 ہزار روپیہ تک کرتے ہوئے لکھا کہ اب اگر آتھم صاحب قسم کھا لیں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں اور تقدیر مبرم ہے اور اگر تم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا جس نے حق کا اخفا کر کے دنیا ( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه (538) کو دھوکہ دینا چاہا۔لیکن آتھم صاحب نے قسم نہ کھائی اور آخر 27 جولائی 1896ء کو فیروز پور میں وفات پاگئے اور اسلام کی فتح کا ایک اور زبر دست نشان ظاہر ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس اہم پیشگوئی کی وضاحت کیلئے تین مستقل تصانیف انوار الاسلام، ضیاء الحق اور انجام آتھم تالیف فرما ئیں۔حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف کے سامنے جب آتھم کی پیشگوئی