ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page v
نے ان کی اس حالت کی خبر دیتے ہوئے فرمایا: وَإِذَا جَاءُ وَكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ وَيَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بمَا تَقُولُ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمَصِيرُه (المجادلة :9) یعنی اور جب وہ تیرے پاس آتے ہیں تو وہ اس طریق پر تجھ سے خیر سگالی کا اظہار کرتے ہیں جس طریق پر اللہ نے تجھ پر سلام نہیں بھیجا اور وہ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس پر عذاب کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں، ان سے نپٹنے ) کو جہنم کافی ہو گی۔۔وہ اس میں داخل ہوں گے۔پس کیا ہی بُر اٹھکانا ہے۔یعنی اس دنیا میں بھی تو ان لوگوں کے لیے جہنم کی آگ میں جلنا ہی ہے اور اگلے جہان میں بھی۔یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے توہین رسالت کی سزا اپنے اختیار میں رکھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال صبر اور تقویٰ کا نمونہ دکھاتے ہوئے عبداللہ بن ابی کے بیٹے عبداللہ کی اس پیشکش کو بھی ٹھکرا دیا جو وہ توہین رسالت کے جرم میں اپنے والد سر دار منافقین کا سر قلم کرنا چاہتا تھا۔(صحیح مسلم كتاب البر والصلة والادب باب نَصْرِ الأخ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا) الغرض حسب منشاء الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت جرم توہین رسالت کے جواب میں صبر اور تقویٰ کے نمونے کی صورت میں ہی ظاہر ہوئی۔یہی پاکیزہ نمونے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاء راشدین نے دکھائے اور اس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق حضرت مرزا غلام احمد صاحب اور آپ کے خلفاء نے بھی ایسی پاک روش پر چل کر دکھایا۔جس پر جماعت احمدیہ کی سو سالہ تاریخ شاہد ہے۔حضرت بانی جماعت احمدیہ کو اپنے آقا ومطاع سے جو گہری محبت تھی اس کا اندازہ آپ کے اس شعر سے خوب ہوتا ہے۔بعد از خدا بعشق محمد محمرم گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم یعنی میں خدا تعالیٰ کے بعد محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں دیوانہ ہو چکا ہوں اگر اس عشق کی دیوانگی کا نام کوئی کفر رکھتا ہے تو خدا کی قسم میں سخت کا فر ہوں۔( کیونکہ آپ سے میں شدید محبت رکھتا ہوں )