ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 36
36 تب اس کا اختتام صرف کچھ تو قف اختیار کر جائے گا۔موت اس کو پھر بھی جلد پالے گی اور اس کے صیحوں پر بھی تباہی آ جائے گی۔یہ ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی کہ میچوں تباہ ہو جائے اور ڈوئی احمد ( علیہ السلام) کی زندگی میں مر جائے۔" مسیح موعود " کے لئے یہ ایک خطرے کا قدم تھا کہ وہ لمبی زندگی کے امتحان میں اس " ایلیا ثانی" کو بلائیں۔کیونکہ چیلنج کرنے والا ہر دو میں سے کم و بیش پندرہ سال زیادہ عمر رسیدہ تھا۔ایک ایسے ملک میں جو پلیگ اور مذہبی دیوانوں کا گھر ہو۔حالات اس کے مخالف تھے مگر آخر کار وہ جیت گیا۔" تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 249) انجام آتھم کتاب اور عیسائیوں کو الزامی جواب جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ناموس رسالت کی خاطر آریہ سماجیوں کو الزامی جوابات دیئے۔اسی طرح عیسائیوں نے جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بد زبانی اور الزامات کی حد کر دی۔جس میں پادری آتھم بھی شامل تھا۔تو آپ نے انجام آتھم کے نام پر ایک نابغہ روزگار کتاب لکھی جس میں آپ نے اسلام کے زندہ ہونے کا پُر شوکت اعلان کیا اور مخالفین کو چیلنج دیتے ہوئے فرمایا۔میں ہر یک مخالف کو دکھلا سکتا ہوں کہ قرآن شریف اپنی تعلیموں اور اپنے علوم حکمیہ اور اپنے معارف دقیقہ اور بلاغت کاملہ کی رو سے معجزہ ہے۔موسیٰ کے معجزہ سے بڑھ کر اور عیسی کے معجزات سے صد ہا درجہ زیادہ۔میں بار بار کہتا ہوں اور بلند آواز سے کہتا ہوں کہ قرآن اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت رکھنا اور سچی تابعداری اختیار کرنا انسان کو صاحب کرامات بنا دیتا ہے اور اس کامل انسان پر علوم غیبیہ کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور دنیا میں کسی مذہب والا روحانی برکات میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔چنانچہ میں اس میں صاحب تجربہ ہوں، میں دیکھ رہا ہوں کہ بجز اسلام تمام مذہب مُردے۔ان کے خدائر دے اور خود وہ تمام پیرومر دے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق ہو جانا بجز اسلام قبول کرنے کے ہرگز ممکن نہیں۔ہرگز ممکن نہیں۔اسے نادانو ! تمہیں مردہ پرستی میں کیا مزہ ہے؟ اور مُردار کھانے میں کیا لذت؟ آؤ میں تمہیں بتلاؤں کہ زندہ خدا کہاں ہے اور کس قوم کے ساتھ ہے۔وہ اسلام کے ساتھ ہے۔اسلام اس وقت موسیٰ کا طور ہے۔جہاں خدا بول رہا ہے۔وہ خدا جو نبیوں کے ساتھ کلام کرتا تھا ور پھر چپ ہو گیا۔آج وہ ایک مسلمان کے دل میں کلام کر رہا ہے۔کیا تم میں سے کسی کو شوق نہیں کہ اس بات کو پر کھے۔پھر اگر حق کو پاوے تو قبول کر لیوے۔تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ کیا ایک مُردہ کفن میں لپیٹا ہوا۔پھر کیا ہے؟ کیا ایک مشت خاک۔کیا یہ مردہ خدا ہوسکتا ہے؟ کیا یہ تمہیں کچھ جواب دے سکتا ہے۔ذرا آؤ ! ہاں ! لعنت ہے تم پر اگر نہ آؤ۔اور اس سڑے گلے مردہ کا میرے خدا کے ساتھ مقابلہ نہ کرو۔" ضمیمه انجام آنقم از روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 345-346) اس چیلنج کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بعض الزامی جوابات بھی دیئے۔اس کی وجہ بیان کرتے