ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 35 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 35

35 سے پوری ہوئی ہے جس پر وہ جتنا بھی فخر کریں کم ہے۔چنانچہ "شکا گوٹر یون" نے 10 مارچ 1907 کولکھا۔ڈوئی کل صبح 7 بجکر 40 منٹ پر شیلو ہاؤس میں مر گیا۔اس وقت اس کے خاندان کا کوئی فرد بھی موجود نہ تھا۔" ڈوئی کے مرنے کے چند گھنٹے بعد ہی اس کی آراستہ و پیراستہ اقامت گاہ اور اس کے سارے سامان پر سرکاری ریسیور مسٹر جان ہارٹلے نے میچوں کے قرض خواہوں کے نام پر قبضہ کر لیا۔جب ڈوئی کی نعش صندوق میں پڑی ہوئی تھی اس وقت سرکاری کسٹوڈین مکان کے احاطہ میں جائیداد کی نگرانی کرتا رہا۔یہ خود مصنوعی پیغمبر کسی اعزاز کے بغیر بالکل کسمپرسی کے عالم میں مر گیا۔اس وقت اس کے پاس نصف درجن سے بھی کم وفا دار اور پیر و موجود تھے جن میں باتنخواہ ملاز میں منجملہ ایک حبشی کے شامل تھے۔اس کے بستر موت پر کوئی قریبی عزیز نہ آیا اس کی بیوی لڑکا جیمل مشی گن کے دوسری طرف والے مکان بین مکدو ہی میں اس عرصہ میں مقیم رہے۔وہ آدمی جس نے دوسروں کو شفا دینے کا پیشہ اختیار کیا وہ خود کو شفانہ دے سکا۔اس کی غیر مطیع سپرٹ کو اس بیماری کے آگے سر تسلیم خم کرنا پڑا جو اس کو قریباً دو سال سے دبوچے ہوئے تھی۔اس کا شفا دینے کا ایمان ، اس کے فالج، ڈراپسی اور دوسری پیچیدہ امراض کے سامنے باکل بے طاقت ثابت ہوا۔" رسالہ " انڈی پینڈنٹ " نے 14 مارچ 1907 ء کو لکھا:۔ڈوئی اپنی مذہبی اور مالی طاقت میں آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے کمال تک پہنچا مگر پھر یک لخت نیچے آ گرا۔اس حال میں اس کی بیوی ، اس کا لڑکا ، اس کا چرچ سب اس کو چھوڑ چکے تھے۔اس نے اپنے مزعومہ پیغمبری مرتبہ کے لئے رنگارنگ کا ایسالباس بنایا ہوا تھا جو یوسف یا ہارون نے کبھی نہ پہنا ہوگا شہر میچوں کے لئے اور اپنی ذاتی شان و شوکت کے لئے اس نے ان اموال کو جو اس کی تحویل میں دیئے گئے ناجائز طور پر استعمال کیا۔ایسے آدمی سمجھتے ہیں کہ ان کے لئے ناجائز کام کرنا بھی مناسب ہے کیونکہ ان کو یہ زعم ہوتا ہے کہ ان کا نظریۂ اخلاق دنیا کے مسلمہ نظریات سے تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 248) امریکن اخبار "ٹروتھ سیکر " نے اپنی اشاعت 15 جون 1907ء میں "مرسلین کی جنگ" کے عنوان سے بہت بلند ہے۔“ ادار یہ لکھا۔ڈوئی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مفتریوں کا بادشاہ سمجھتا تھا۔اس نے نہ صرف یہ پیشگوئی کی کہ اسلام میحون کے ذریعہ سے تباہ کر دیا جائے گا بلکہ وہ ہر روز یہ دعا بھی کیا کرتا تھا کہ ہلال (اسلامی نشان ) جلد از جلد نابود ہو جائے۔جب اس کی خبر ہندوستانی مسیح کو پہنچی تو اس نے اس ایلیاء ثانی کو للکارا کہ وہ مقابلے کو نکلے اور دعا کریں کہ "جو ہم میں سے جھوٹا ہو وہ بچے کی زندگی میں مرجائے۔" قادیانی صاحب نے پیشگوئی کی کہ اگر ڈوئی نے اس چیلنج کو قبول کر لیا تو وہ میری آنکھوں کے سامنے بڑے دکھ اور ذلت کے ساتھ اس دنیا سے کوچ کر جائے گا اور اگر اس نے چیلنج کو قبول نہ کیا تو