ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 34 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 34

34 انکار کرے گا تو امریکہ کے پیغمبر کے دعاوی جھوٹ اور افتر اثابت ہو جائیں گے۔ریویو آف ریلیجنز جلد 6 صفحہ 477-1903،479ء) حضرت اقدس کے اس اشتہار کے جواب میں ڈوئی اشاروں اشاروں سے میدان مقابلہ میں آ گیا اور وہ اس طرح کہ اس نے 26 دسمبر 1903 ء کو اپنے اخبار میں لکھا کہ لوگ مجھے بعض اوقات کہتے ہیں کہ کیوں تم فلاں فلاں بات کا جواب نہیں دیتے۔کیا تم خیال کرتے کہ میں ان کیڑوں مکوڑوں کو جواب دوں گا۔اگر میں اپنا پاؤں ان پر رکھوں تو ایک دم ان کو کچل سکتا ہوں۔مگر میں ان کو موقع دیتا ہوں کہ میرے سامنے سے دور چلے جائیں اور کچھ دن اور زندہ رہ لیں۔" 12 دسمبر 1902 ء کو لکھا۔"اگر میں خدا کی زمین پر خدا کا پیغمبر نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں۔" اس کے معا بعد اس نے 27 دسمبر 1903ء کے اخبار میں نہایت بد زبانی سے حضور کے لئے " بیوقوف محمدی مسیح" کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے لکھا۔"ہندوستان میں ایک بے وقوف شخص ہے جو محمدی مسیح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہ مجھے بار بار کہتا ہے کہ حضرت عیسی کشمیر میں مدفون ہیں جہاں پر ان کا مقبرہ دیکھا جاسکتا ہے۔وہ یہ نہیں کہتا کہ اس نے خود وہ ( مقبرہ) دیکھا ہے مگر بے چارہ دیوانہ اور جاہل شخص پھر بھی یہ بہتان لگاتا ہے کہ حضرت مسیح ہندوستان میں فوت ہوئے۔واقعہ یہ ہے کہ خداوند مسیح بیت عناہ کے مقام پر آسمان پر اٹھایا گیا جہاں پر وہ اپنے سماوی جسم میں موجود ہے۔" (حقیقۃ الوحی از روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 500) پھر 23 جنوری 1903 ء کو مسلمانوں کی تباہی کی پیشگوئی دہراتے ہوئے لکھا۔سینکڑوں ملین مسلمان جو اس وقت ایک جھوٹے نبی کے قبضہ میں ہیں انہیں یا تو خدائی آواز سننی پڑے گی یا وہ تباہ ہو جا ئیں گے۔" ( عبرتناک انجام صفحه 11 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 246) اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اخلاقی ، روحانی اور مادی موت کے فیصلہ پر کام شروع ہو چکا تھا۔سب سے پہلے " اخبار نیو یارک ورلڈ " نے اس کے وہ 7 خطوط شائع کر دیئے جو اس نے اپنے باپ جان مرے ڈولی کو اپنی ناجائز ولدیت کے بارے لکھے تھے۔پھر فالج کا حملہ ہوا۔اس کے پرائیویٹ کمرہ سے شراب برآمد ہوئی۔کنواری لڑکیوں سے اس کے ناجائز تعلقات سامنے آئے۔بالآخر سکتے ہوئے موت کو اپنے گلے لگالیا، بیوی ، بچے اور حواری تمام اس کا ساتھ چھوڑ گئے۔ڈوئی کی ہلاکت کا نشان دنیا کی تاریخ میں ایک غیر معمولی نوعیت کا نشان تھا جس نے مغرب کی مادیت پرست دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور امریکہ و یورپ کے بعض اخبارات کو تسلیم کرنا پڑا کہ محمدی مسیح کی پیشگوئی ایسی شان