ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 33
33 کی بلکہ حضور کو براہ راست اس کا جواب تک نہ دیا۔اس پر مستزاد یہ کہ اسلام کے خلاف پہلے سے زیادہ بد زبانی شروع کر دی۔چنانچہ اپنے ستمبر 1902ء کے پرچہ میں لکھا کہ :۔" میرا کام یہ ہے کہ میں مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب سے لوگوں کو جمع کروں اور مسیحیوں کو اس شہر اور دوسرے شہروں میں آباد کروں یہاں تک کہ وہ دن آ جائے کہ مذہب محمدی دنیا سے مٹا دیا جائے۔" (حقیقۃ الوحی تتمه از روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 509) اس کے بالمقابل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مضمون مباہلہ کو امریکہ کے مشہور ومعروف اخبارات میں شائع کروا دیا جس سے امریکہ اور یورپ میں اس کی دھوم مچ گئی۔ان میں سے بعض اخبارات نے حضرت اقدس کا فوٹو شائع کیا۔بعض نے قبر مسیح کی تصویر بھی چھاپی۔اخبار ارگوناٹ سان فرانسسکو " نے حضرت اقدس کے پیش فرمودہ طریق فیصلہ کو معقول اور منصفانہ تجویز قرار دیا۔تمتمه حقیقۃ الوحی از روحانی خزائن جلد 22 صفحه 505 تا509) حضور کے اشتہار کو ایک سال گزر گیا اور امریکہ کے اخباروں نے اس کی بکثرت اشاعت کر کے ڈوئی کو شرم دلائی مگر ڈوئی نے اب بھی ایک لفظ تک منہ سے نہ نکالا اور نہ اس چیلنج کو قبول کیا نہ انکار۔البتہ اس نے مفتی محمد صادق صاحب فنانشنل سیکرٹری انجمن اشاعت اسلام کے نام ایک پرائیویٹ خط میں لکھا خواہ کوئی شخص مجھے الیاس مانے یا نہ مانے میرے سلسلہ میں داخل ہو سکتا ہے۔میری نبوت کو ماننا سلسلہ میں داخل ہونے کے لئے ضروری نہیں ہے۔" (ريويو آف ريليجنز جلد 6 صفحہ 346 ستمبر 1903 ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 246) حضور نے جب دیکھا کہ ڈوئی ایک سال کا عرصہ گزر جانے پر بھی نہ کھلے طور پر میدان مقابلہ میں آتا ہے نہ اپنی بد زبانی سے باز آتا ہے تو حضور نے 23 راگست 1903 ء کو ایک اور انگریزی اشتہار " پکٹ اور ڈوئی کے متعلق پیشگوئیاں "شائع فرمایا۔حضور نے اس اشتہار میں صاف صاف تحریر فرمایا کہ :۔"مسٹر ڈوئی اگر میری درخواست مباہلہ قبول کرے گا اور صراحتاً یا اشارہ میرے مقابلہ پر کھڑا ہوگا تو میرے دیکھتے دیکھتے بڑی حسرت اور دکھ کے ساتھ اس دنیائے فانی کو چھوڑ دے گا۔" ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه 606-607) حضور کے اس اشتہار کا بھی امریکہ کے اخباروں میں عام چرچا ہوا مثلاً اخبار " گلاسگو ہیرلڈ " نے 27 /اکتوبر 1903ء کی اشاعت میں لکھا کہ "مرزا غلام احمد صاحب اپنی پیشگوئی مورخہ 23 راگست 1903ء میں ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنی دعوت مقابلہ کے جواب کا سات ماہ آئندہ تک انتظار کریں گے۔اگر اس عرصہ میں ڈاکٹر ڈوئی نے اس مقابلہ کومنظور کر لیا اور اس کی شرائط کو پورا کیا تو تمام دنیا اس مقابلہ کا انجام دیکھ لے گی۔میری عمر ستر سال کے قریب ہے حالانکہ ڈاکٹر ڈوئی صرف پچپن (55) سال کی عمر کا ہے۔لیکن چونکہ اس امر کا انفصال عمر پر نہیں ہے اس واسطے میں ان عمر کے سالوں کی تفاوت کی کچھ پروا نہیں کرتا۔مرزا غلام احمد صاحب کہتے ہیں کہ اگر اب بھی ڈوئی مقابلہ سے