ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 30 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 30

30 اللہ علیہ وسلم کے حق میں بد زبانی کے طریق کو ترک کر دے۔آپ نے متعدد بار اسے خطوط، زبانی پیغامات اور اشتہارات کے ذریعہ سمجھایا مگر وہ باز نہ آیا کیونکہ انبیاء کے خلاف گستاخی اور بد زبانی اس کی خوراک بن چکی تھی۔اگر پنڈت لیکھرام رسول محترم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اس بے باکی اور بدتہذیبی سے اپنی زبان اور قلم نہ چلا تا اور پھر اس پر اتنی دیدہ دلیری نہ دکھلاتا تو خدا کی قسم حضرت مسیح موعود علیہ السلام ضرور اس کے حق میں دعا کرتے اور اس کا ایسا عبرت ناک انجام نہ ہوتا۔مگر بے حاضر، عداوت، دشمنی اور کینہ پروری کے علاوہ آریہ سماجیوں کی واہ واہ نے اسے اپنے انجام سے غافل کر دیا اور آخر وہی ہوا جس کا وہ اپنے اعمال اور اقوال کی وجہ سے مستحق ٹھہر چکا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس غیرت دینی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:۔" کیا لیکھرام نے میرے کسی باپ اور دادا کوقتل کر دیا تھا ؟ اس نے میری ذات کو کسی قسم کی تکلیف اور ایذاء نہیں دی۔ہاں اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر وہ گستاخانہ حملے کئے اور وہ بے ادبیاں کیں کہ میرا دل کانپ اٹھا اور میرا جگر پارہ پارہ ہو گیا۔میں نے اس کی بے ادبیوں اور شوخیوں کو ٹکڑے ہوتے ہوئے دل کے ساتھ خدا کے حضور پیش کیا۔اُس نے ان شوخیوں اور گستاخیوں کے عوض میں اس کی نسبت مجھے یہ پیشگوئی عطا فرمائی۔" ( ملفوظات جلد اول طبع جدید صفحه 377-378 ایک طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خیر خواہی اور انسانی ہمدردی کے پیش نظر بار بارا سے سمجھایا لیکن دوسری طرف آپ کا رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا یہ عالم تھا کہ آپ فرماتے ہیں:۔" جولوگ ناحق خدا سے بے خوف ہو کر ہمارے بزرگ نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرے الفاظ سے یاد کرتے اور آنجناب پر نا پاک تہمتیں لگاتے اور بد زبانی سے باز نہیں آتے ہیں ان سے ہم کیونکر صلح کریں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کر سکتے ہیں لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کر سکتے جو ہمارے پیارے نبی پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے۔نا پاک حملے کرتے ہیں۔" پیغام صلح از روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 459) ایک دفعہ لا ہور اسٹیشن پر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز کے لئے وضو فرما رہے تھے۔لیکھرام نے پہنچ کر سلام کیا۔آپ نے اپنا رخ مبارک دوسری طرف کر لیا اور وضو میں مصروف رہے۔لیکھرام نے سمجھا کہ شاید سنا نہیں اس نے دوسری طرف ہو کر سلام کرنا چاہا مگر اس عاشق رسول نے اپنا چہرہ پھر بدل لیا۔بعض صحابہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو توجہ بھی دلائی کہ لیکھر ام سلام کہ رہا تھا۔آپ نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عقیدت میں بڑے جلالی انداز میں جواب دیا کہ اس نے انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی توہین کی ہے۔میرے ایمان کے خلاف ہے کہ میں اس کا سلام لوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر تو حملے کرتا ہے اور مجھ کو سلام کرنے آیا ہے۔(سیرت حضرت مسیح موعود حصہ دوم صفحہ 271) گو یا غیرت رسول اس قدر تھی کہ ایسے شخص سے سلامتی کا پیغام لینا گوارا نہ کیا جو آپ کے آقا کو بُرا بھلا کہتا تھا۔