ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 29 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 29

29 یہ بالکل غلط ہے کہ لیکھرام سے مجھ کو کوئی ذاتی عداوت ہے۔مجھ کو ذاتی طور پر کسی سے بھی عداوت نہیں۔بلکہ اس شخص نے سچائی سے دشمنی کی اور ایک ایسے کامل اور مقدس کو جو تمام سچائیوں کا چشمہ تھا تو ہین سے یاد کیا اس لئے خدا نے چاہا کہ اپنے ایک پیارے کی عزت دنیا میں ظاہر کرے۔" استفتاء از روحانی خزائن جلد 12 صفحه 122) اس مضمون پر مشتمل ایک دلچسپ روایت پیش کی جارہی ہے جو چوہدری اللہ بخش صاحب آف بھڈال ضلع سیالکوٹ کی ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔" گھنو کے حجہ میں میری خوشدامن کی تعزیت کیلئے جو احباب آئے۔ان میں کوٹ آغا کے چود ہری شریف احمد بھی تھے جن کی عمر ایک سو سال کے ڈیڑھ دو مہینہ اوپر ہے۔انہوں نے ایک ایمان افروز واقعہ سنایا کہ نومبر 1911ء میں جن دنوں وہ پسرور ہائی سکول میں پڑھتے تھے ایک روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب حقیقۃ الوحی وہ سکول میں ساتھ لے گئے جس پر ہندولڑکوں نے ہندو استاد کے پاس ان کی شکایت کر دی اور اس نے ہیڈ ماسٹر تک بات پہنچا دی کہ اس کتاب میں لیکھرام کا واقعہ درج ہے اور ساتھ اس کی ایک تصویر بھی بنی ہوئی ہے یہ ہمارے لئے نا قابل برداشت ہے۔ہیڈ ماسٹر صاحب کا تعلق لاہوری جماعت سے تھا انہوں نے مجھے بلا کر کہا کہ تم قادیان سے کسی عالم کو بلالو لیکھرام کی پیشگوئی کے بارے میں پسرور میں مناظرہ رکھ دیا گیا ہے چنانچہ قادیان اطلاع بھجوائی گئی جہاں سے مولوی جلال الدین شمس صاحب اور مولوی قمر الدین صاحب پسرور آ گئے۔گاؤں کے وسط میں سٹیج بنایا گیا۔ہندوؤں کی بڑی تعداد دو ہاں جمع ہو گئی۔قابل ذکر بات یہ تھی کہ علاقے اور پسرور کے مسلمان بھی ہندوؤں کے ساتھ ہی بیٹھ گئے اور انہوں نے ایک مشہور عالم کو مناظرے کے لئے بلالیا۔احمدیوں کی طرف سے محترم مولوی جلال الدین صاحب شمس مناظر تھے جبکہ مولوی قمر الدین صاحب صدر اجلاس تھے۔محترم شمس صاحب نے مناظرہ شروع کرتے ہی فرمایا کہ حضرت مرزا صاحب کو لیکھرام سے کوئی ذاتی دشمنی نہ تھی ، انہیں اس سے صرف یہ شکایت تھی کہ اس نے فلاں جگہ سب لوگوں کے سامنے قرآن شریف پر اپنا دایاں پاؤں رکھتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یہ خدا کی کتاب ہے تو مجھ پر عذاب نازل کیوں نہیں ہوتا۔لیکھرام کی اس تو ہین کا حضرت مرزا صاحب پر بہت اثر ہوا اور آپ نے اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر دعا کی کہ یا اللہ ! یہ تو حد سے آگے بڑھ گیا ہے۔رسول پاک اور قرآن شریف کی توہین کرنے سے باز نہیں آتا۔عبرت کا نشان بنا۔محترم مشمس صاحب کا یہ کہنا تھا که تمام مسلمان اٹھ کر اس طرف آگئے جس طرف احمدی بیٹھے ہوئے تھے اور ان کی طرف سے جو مسلمان مناظر آئے ہوئے تھے انہوں نے مناظرہ کرنے سے معذرت کر لی۔اس طرح ہندوؤں کو سخت ندامت کا منہ دیکھنا پڑا۔اس روز پسرور کے ہر مسلمان کی زبان پر یہ الفاظ تھے کہ مرزا صاحب نے اپنی ذات کے لئے نہیں رسول پاک اور قرآن کے لئے لیکھرام کے لئے بددعا کی تھی۔" (ماہنامہ منادی گجرات اکتوبر 1996ء جلد 8 شماره 10 صفحہ 4) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دلی خواہش تھی کہ پنڈت لیکھرام، حضرت سیدالانبیاء وامام الاصفیاء محمدمصطفی صلی