ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 31 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 31

31 سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار، عقیدت اور غیرت کا ایک اور دلچسپ واقعہ بھی یہاں درج کیا جاتا ہے۔جس کا تعلق بھی لیکھر ام ہی سے ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں۔" قادیان میں ایک صاحب محمد عبد اللہ ہوتے تھے۔جنہیں لوگ پروفیسر کہہ کر پکارتے تھے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں کسی نے بیان کیا کہ فلاں مخالف نے حضور کے متعلق فلاں جگہ بڑی سخت بد زبانی سے کام لیا ہے اور حضور کو گالیاں دی ہیں۔پروفیسر صاحب طیش میں آکر بولے اگر میں ہوتا تو اس کا سر پھوڑ دیتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بے ساختہ فرمایا۔" نہیں نہیں ایسا نہیں چاہئے۔ہماری تعلیم صبر اور نرمی کی ہے۔"پروفیسر صاحب اس وقت غصے میں آپے سے باہر ہورہے تھے۔جوش کے ساتھ بولے۔واہ صاحب واہ ! یہ کیا بات ہے آپ کے پیر (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کوئی شخص بُرا بھلا کہے تو آپ فوراً مباہلہ کے ذریعے اسے ( مراد لیکھرام ہے ) جہنم تک پہنچانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں مگر ہمیں یہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص آپ کو ہمارے سامنے گالی دے تو ہم صبر کریں !! اس چھوٹے سے واقعہ میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور غیرت ناموسِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ جھلک نظر آتی ہے جس کی مثال کم ملے گی۔" ( حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد کی چار تقریریں صفحہ 32-33 تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 580) ڈاکٹر ڈوئی کی بانی اسلام کے متعلق شوخیاں اور حضرت مسیح موعود کی للکار ایک اور دشمن ڈاکٹر جان الیگزینڈر ڈوئی جس کی پیدائش سکاٹ لینڈ کی ہے۔آسٹریلیا، سان فرانسسکو اور امریکہ کی دوسری مغربی ریاستوں سے ہوتا ہوا 1893ء میں شکا گو آیا جہاں اس نے اپنی شعلہ بیانی کی وجہ سے جلد شہرت حاصل کی اور زائن میں ایک سنٹر بنایا۔پیغمبری کا دعویٰ کیا اور کرسچن کیتھولک اپاسٹک چرچ کی بنیاد رکھی اور اپنے خیالات کی تبلیغ کے لئے ایک اخبار بھی جاری کیا۔(انسائیکلو پیڈیا آف برٹین کا جلد چہارم زیر لفظ ڈوئی صفحہ 203) مکرم مولا نا دوست محمد شاہد صاحب مورخ احمدیت نے اس سارے واقعہ کا احاطہ یوں کیا ہے۔ڈ وئی شروع ہی سے اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت دشمن تھا۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو (معاذ اللہ ) کا ذب اور مفتری خیال کرتا تھا اور اپنی خباثت سے گندی گالیاں اور مخش کلمات سے حضور" کو یاد کرتا تھا۔اس کے اندرونی بغض اور بد باطنی کا اندازہ لگانے کے لئے فقط یہ امر ہی کافی ہے کہ اس نے اپنے اخبار "لیوز آف ہیلنگ 25 " راگست 1900 ء میں صاف اور کھلے لفظوں میں یہ پیشگوئی کی کہ " میں امریکہ اور یورپ کی عیسائی اقوام کو خبر دار کرتا ہوں کہ اسلام مُردہ نہیں ہے اسلام طاقت سے بھرا ہوا ہے اگر چہ اسلام کو ضرور نابود ہونا چاہئے۔محمدن ازم کو ضر ور تباہ ہونا چاہئے مگر اسلام کی بربادی نہ تو مضمحل لاطینی عیسویت کے ذریعہ ہو سکے گی نہ ہی بے طاقت یونانی عیسویت کے ذریعہ سے۔" (ڈوئی کا عبرت ناک انجام صفحہ 7 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 242) جب ڈوئی اپنی شوخیوں اور بے باکیوں میں یہاں تک پہنچ گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت کا ایک زبر دست جوش پیدا کیا۔چنانچہ حضور نے ستمبر 1902 ء کو ایک مفصل